FitratAurMahool (Page 15)

Read in:
ماحول کی جامع تعریف: انسانی تخلیقی عمل کی تاریخ میں تخلیقی ماحول سے پہلے کوئی بھی حقیقت جگہ نہیں پا سکی ہے یہی تخلیقی ماحول کی بنیادی خصوصیت ہے جس کی بنا پر انسانی ذہن پر ماحول کی حقیقت واضح ہوئی کیونکہ تخلیقی عمل کے سوا کوئی ایسی چیز ہی نہ تھی جو انسان کا حافظہ اور یاداشت پید اکرتی۔ لہٰذا سب سے پہلا ماحول قدیم انسان کا ذہنی ماحول ہے جو تخلیقی ذہانت کے استعمال کے بعد پیدا ہونے والا ذہنی اثاثہ ہے۔ انسانی ذہن اور گردو پیش کی صورت حال کے مابین انٹرایکشن کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جذبات و تاثرات کو ماحول کہا جاتا ہے۔ انسانی ذہن کی داخلی موضوعی کیفیت اور خارجی معروضی صورتحال کے مابین ربط و تعلق کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ذہنی قلبی، صورتحال، واقعات، جذبات، تاثرات، ذہنی فیصلوں اور قلبی عزائم کے مجموعے کو ماحول کہا جاتا ہے۔ انگریزی زبان کا لفظ ’’Environment‘‘ اس کے لیے مناسب ترین لفظ ہے کیونکہ اس لفظ میں ذہنی کیفیت، داخلی کیفیات اور خارجی معروضی صورتحال کے مابین تعلق کی بھرپور عکاسی ہے۔ کرئہ ارض کا مرکزی کردار انسان ہے۔ تمام اشیاء واقعات، حوادثات، معاملات، مناظر اور صورتِ حالات انسان کے گر د گھومتے ہیں۔ لہٰذاانسانی ذہن کی اندرونی کیفیت و حالت اور اس کے خارج میں پھیلی ہوئی معروضی حالت اور زمانی مکانی طور پر پیدا شدہ معروضی کائناتی صورتِ حال جس کی روشنی اور نتائج سے متاثر ہو کر انسانی ذہن فیصلے کرتا ہے۔ وہ واقعاتی کیفیاتی رَو جو انسانی ذہن اور کائنات کو باہم دِگر جوڑکر رکھتی ہے۔ اس رو کی غیر مرئی زنجیر کو ماحول کہا جاتا ہے۔ انسان اجتماعی سماجی زندگی گزارتا ہے اس لئے وہ تمام حالات جو ایک فرد کی وجہ سے سماج کو اورسماج کی وجہ سے فرد کو درپیش رہتے ہیں سماجی ماحول کہلاتے ہیں۔ انسان چونکہ پیدائشی طور پرایک جینیاتی کوڈ یعنی کروڑوںسال کے ورثے کا تسلسل ہے لہٰذا اس کی عادتیں اور خصائل اس کی قابلیتیںاور صلاحیتیں اس کا باڈی اسٹرکچر اور اس کا مزاج اور خمیر اُن حالات و واقعات، جذبات و تاثرات، میلانات و رجحانات میں بہت گُندھا ہوا ہوتا ہے۔ جن حالات و واقعات، حوادثات و تجربات سے اس کے والدین یا آباؤ اجداد گزرے ہوئے ہوتے ہیں ان تمام چیزوں کے مجموعے کو انسان کا جینیاتی ماحول کہا جاتا ہے۔ خطرناک بیماریوں اور حوادثات کی صورت حال میں ان بیماریوں اور حوادثات کی اصلی وجوہات معلوم کرنے کے لئے اُن کا ڈی۔ این۔اے ٹیسٹ کیا جاتا ہے تا کہ اُس کے جینیاتی ورثے کے اَسٹور سے اصلی ریکارڈ حاصل کر کے ان بیماریوں اور حوادثات کی بنیادی وجوہات کی دَرک لگائی جائے۔ یہی جینیاتی ماحول ہوتا ہے جس پر دنیا میں میڈیکل سائنس، سائیکالوجی اور جینیاتی انجینئرنگ کے شعبے خصوصاً بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ انسان خاندانی نظام کے ساتھ ہزاروں سال سے وابستہ ہے اسی خاندانی نظام کی وسعت کو معاشرہ کہا جاتا ہے۔ چونکہ عربی زبان میں قریبی خاندان کو عشیرہ کہا جاتا ہے اور خاندانی نظام کو معاشرہ کہا جاتاہے۔ اوائلِ عمری میں عادتیں اور میلانات، رجحانات اور خصائل انسان میں نا محسوس طور پر پیدا ہوتے اور پلتے بڑھتے جوان ہو کر اس کی شخصیت کا حصہ اور پہچان بن جاتے ہیں انہیں اس کا معاشرتی ماحول کہا جاتا ہے۔ انسان کے نظامِ ضرورت میں تبدیلیوں کے ساتھ اس کے نظام تخلیق و پیداوار میں مثبت و منفی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ نظامِ تخلیق و پیداوار میں ابتری اور نقص و خرابی سے سماجی ڈھانچہ ابتری کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کی واضح مثال پاکستان کا ابتری اور مسلسل ٹوٹ پھوٹ کا شکار زوال آمادہ سماجی نظام ہے۔ ہر آنے والا لمحہ جس کی سفلگی اور پستی میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ جس کے منطقی نتیجے میں زوال پذیر سماج کا ہر فرد اپنے ذہنی خلفشار کے ریلے کو ہر آن شامل کر کے اس کے زوال کو مزید ابتر اور تیز کر دیتاہے۔ مثبت سماجی تبدیلیوں کی مثال پسماندہ ممالک کی سماجی ڈھانچوں میں تلاش کرنا مشکل ترین بلکہ بسااوقات ناممکن ہو جاتا ہے۔ لیکن سماجی نظام میں مثبت تبدیلیوں اُن کی مقدار، تخلیقی پیداواری نظام کے معیارات اور کوالیٹیز کی بہتری کے ساتھ ترقی یافتہ ممالک اور ان کے اعلیٰ ترقی یافتہ سماجی ڈھانچوں میں خوشگوار ہوا کے جھونکوں کی مانند ہر آن اور ہر لحظہ شامل ہوتی رہتی ہے۔ یہی خوشگوار اثرات سماجی تخلیقی پیداواری ڈھانچے کی بنیادوں سے اپنی شروعات کے ساتھ سرایت کرتا ہوا سماجی ڈھانچے کی تمام بنیادوں کو تربتر کر دیتا ہے۔ جس کے خوشگوار اثرات لے کر ہر جہت اجتماعی ڈھانچے کا جب حصہ بنتی ہے اور مجموعی کیفیت میں جب اپنا اظہار کرتی ہے تو ترقی یافتہ سماج کے

Reader Comments (0)

No comments yet. Be the first to review!

Leave a Comment

| |