Content not available in English.
فطرت کی جدلیات
تغیّر پسند فطرت اپنے جدلیاتی قوانین کے تحت کھرب ہا کھرب سال سے توانائی اور مادے کے بطون میں جلوہ آرائی کے ذریعے حیات اور کائنات کی عمیق اور دبیزدرزوں میں اپنی نمائش اور اظہار کر رہی ہے۔ تخلیق و پیدائش زیبائش و آرائش فطرت کاازلی حسن ہے۔ تغیّر اور تبّدل فطرت کا ابدی شوق اور غیر متبدل قانون ہے۔ نا قابل درک فطرت انسانی ذہانت کو دردو کرب کی اذیت میں مبتلا کرنے والا معمہ ہے۔
مغز کا ارتقاء:
انسانی مغز کے ارتقاء کا لاکھوں سالوں پہ مبنی اور محیط دورانیہ اسی معمے کو سمجھنے اور سمجھانے کا استعارہ ہے۔ مقصود فطرت کیا ہے؟ اور منشاء رب العالمین کیا ہے؟ کائنات کیاہے؟ حیات کیا ہے اور انواع حیات کیا ہیں؟ ماحولیات کیا ہے؟ سائنس اور سائنسی قوانین اسی کھوج اور تلاش کا نام ہے۔ کروڑوں سال پہلے سطح ارضی پر حدت اور نمی کے مناسب توازن کے نتیجے میں نمودار ہونے والی بالقوۃ مقابلتاً مضبوط مغز کی حامل ذہین انسان نما مخلوق نے حیرت اور وحشت میں چند ھیائی ہوئی آنکھوں کے سامنے جس منظر کو پایا وہ وسیع اور بے انت ناپیدا کنار خلا ئتھا۔ سطح ارضی کا گہرا پاتال اور دور افق پار چمکتا ہوا بے کنار خلا فطرت کی آغوش میں ہمکتی ہوئی انسانی مخلوق کے لئے کس قدر حیرت میں ڈبودینے والا منظر ہو اہو گا؟
خلائے آسمانی:
سیکس کی ایجاد کے بعد حیات کے ارتقاء کے جاںسوز مرحلے بڑی جاں فشانی اور تیز رفتاری سے طے کرنے والی انسان نما مخلوق نے حیرت اور تعجب کے تسلسل کے ساتھ جس دل گداز منظر کو طوعاً و کرہاً متواتر دیکھا وہ آسمانی خلا تھا۔
خیال کی ابتداء:
خلاء کی صورت میں تشکیل پانے والے فطرت کے جبر اور مادے اور توانائی کے معمورے کی مضبوط دخانی چادر نے انسان نما مخلوق کے ابتدائی درجے پر تشکیل شدہ دماغی ورثے پر جو پہلا تاثر چھوڑا اسے خیال کہا جاتا ہے یا انسانی مغز کے ہارڈویئر اور دماغ کے سافٹ ویئر کے خلا کے ساتھ مشترکہ تعامل اور انٹر ایکشن کے نتیجے کو خیال کہا جاتا ہے۔ زمین کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی انسان نما ارتقاء پذیر مخلوق پر فطرت کا اولین احسان خیال کی صورت میں تھا اور کائنات کی وستعوں میں ہر چیز کا احاطہ اور محاصرہ کرتی ہوئی واحد قوت صرف خیال ہے۔
ہم حد ماہ وسال سے آگے نہیں گئے
خوابوں میں بھی خیال سے آگے نہیں گئے
اور اس سے بڑھ کر کہ
عالم تمام حلقہء دام خیال ہے
انسانی ذہن کروڑوں سال بے نام اور آوارہ خیالوں کی آماجگاہ بنا رہا ہے۔ کسی خیال کو بھی ہرگز ثبات و قرار نہ تھا مگر فطرت کی منشاء اور ترتیب چونکہ مغز کے ارتقاء اور دماغ کی ایجاد سے بہت ہی قدیم بلکہ ماوراء ہے اس لئے خیال کی کروڑوں سالوں پر مبنی آوارگی فطرت کا لازمہ قرار پائی۔ بظاہر نظر آنے والی خیال کی آوارگی فطرت کے ہاں پراسیس کا دورانیہ ہے۔ فطرت کی کوکھ سے جنم لینے والے کائناتی حقائق وحوادث فطرت کا محاکمہ نہیں کر سکتے۔ نتیجتاً حقائق و حوادث کو فطرت کی بے محا باتعمیل و تابعداری لازماً کرنا پڑے گی۔
تخیل کا مرحلہ:
خیال کی کسی وقییع رو نے انسانی ذہن کے نہاں خانوں میں تھوڑی دیر بھی اگر ٹھکانہ کر لیا یا انسانی ذہن کی توانائیوں کے ساتھ مطابقت پیدا کر لی تو اسے تخیل کی حیثیت مل گئی۔ بھٹکتےہوئے آوارہ خیال کی انسانی ذہن میں لاکھوں سالہ شب بسری کو تخیل کہا جاتا ہے۔
تصور کی ابتداء:
خلا میں موجود رقیق توانائیوں اور کائنات کی وسعتوں میں بکھرے ہوئے انمٹ نقوش کے بے پناہ اثاثے کو انسانی ذہن نے تخیلات میں سے خالص انتخاب کر کے تصور کا نام دیدیا۔ تصورات کی تشکیل کے لاکھوں سالہ دورانیے نے ڈرائنگ کی شکل اختیار کی۔
تخلیق کی حقیقت:
فطرت کے حسن و جمال کی تشکیل و تنظیم کے گہرے اور جاںسوز عمل کو تخلیق کہا جاتا ہے۔
قدرت کی تعریف:
فطری حسن کی تشکیل و تنظیم کے انسانی ذہن سے ماوراء اور انسانی بساط سے باہر کے عمل کو قدرت کہا جاتا ہے۔
فلسفے کی تعریف:
قدرتی عمل اور ڈرائینگ کی حقیقت اور تفصیلات اور مادی کائنات، مظاہر قدرت کی بنیاد اور جواز یا عدم جواز اور محرکات کی تفتیش و جستجو کو فلسفہ کہا جاتا ہے۔
سائنس کی تعریف:
تفتیش اور تحقیق کو فلسفہ اور تفتیش و تفہیم کے بعد مادی تنظیم کے عمل کے ذریعے زندگی کی تمام ضرورتوں سے اہم آہنگ کرنے کے قرینے کو سائنس کہا جاتا ہے گویا فلسفہ تفتیش اور سائنس تنظیم ہے۔
فلسفے کی تعریف:
اشیاء واقعات حوادثات کے فطری محرکات کی تفہیم اور فطرت میں انکے جواز اور حیثیت کے کائناتی صورت حال کے تناظر میں ’’تعین‘‘ کو فلسفہ کہا جاتاہے۔
Reader Comments (0)
No comments yet. Be the first to review!
Leave a Comment