FitratAurMahool (Page 6)

Read in:
پر بسنے والی نوع انسانی اور انواع حیوانی کی سلامتی اور بقاء کو کسی قسم کے اندیشے اور خطرات لاحق نہ ہوتے۔ مگر اموال غنیمت کے غاصبانہ حصول کی خواہش نے مسلمانوں کی تخلیقی پیداواری ذہانت کی نعمت اور تخلیقی شعور کے کلچر کے فروغ سے ہی بیگانہ کر دیا اور ظلم و استحصال کی ذلت میں مبتلا یورپین اقوام نے اپنی ذلت اور رسوائی سے نجات کی سبیل صنعتی ترقی اور مادی تخلیق و تنظیم کے رازمیں تلاش کر لی لیکن قرآن اور اسلام کی عظیم الشان صداقتوں پر اقوام مشرق کے غاصبانہ قبضے کی وجہ سے اقوام مغرب ایک جاہلانہ ردعمل کے طور پر قرآن اور اسلام جیسی الٰہی نعمتوں سے محروم ہو گئیں اور انتقامی رویں سے پھوٹنے والی صنعتی ترقی کی ابتدا انسانی نسلوں کی بقاء اور سلامتی کی ضمات بننے کی بجائے انسانی مخلوق کی ہلاکت اور کرۂ ارض کے ماحول کی بربادی اور تباہی کا باعث بن گئی۔ ہر چیز کی انتہاابتداء سے چپکی ہوئی ہوتی ہے۔ یہ سائنسی فلسفے کا بنیادی اصول ہے۔ اس لئے کہ جہاں سے بربادی اور تباہی کا باعث بننے والی نام نہاد ترقی کا آغاز ہوا ہے وہیں سے انسانی اور حیوانی انواع کی بقاء اور عالمی ماحول کی سلامتی اور امن کا باعث بننے والی حقیقی مادی اور صنعتی ترقی کی عظیم الشان عہد کا آغاز کرنا پڑے گا۔ نام نہاد مسلمان اقوام بقاء اور ترقی کے ضامن کسی عالمی تخلیقی کلچر اور امن و سلامتی کے عالمی پروگرام کا آغاز کرنے والی ذہانت اور صلاحیت سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ لٰہذا کرۂ ارض پر انسانی نسلوں اور دیگر انواع حیوانی کے امن و سلامتی کے خطرات کے سامان پیدا کرنے والی اور عالمی امن کو تباہ کرنے والی ترقی یافتہ اقوام کا یہ بنیادی اور اولین فریضہ ہو کر وہ اپنے مکروہ اور انسانیت کش جرائم کے گناہ عظیم کے کفارے کے طور پر انسانی نسلامن کو تباہ کرنے والی ترقی یافتہ اقوام کا یہ بنیادی اور اولین فریضہ ہو کر وہ اپنے مکروہ اور انسانیت کش جرائم کے گناہ عظیم کے کفارے کے طور پر انسانی نسل اور حیات کی دیگر انواع کی سلامتی اور امن کے لیے ایک انقلابی عمرانی معاہدے کے ذریعے عالمی سامراج کی سفاکی اور درندگی کے آگے ایک امن کی دیوار تعمیر کریں اور کرۂ ارض کی خشکی اور سمندروں کی دبیز درزوں میں بسنے والی انواع حیات کی بقاء اور سلامتی کے انقلابی پروجیکٹ کا آغاز کریں۔ ”فطرت اور ماحول“ میں اسی نصب العین کی یادہانی اور قرآن عظیم کے پاکیزہ صفحات پر مرقوم اسی صداقت کی صدائے بازگشت ہے۔ یقین ہے کہ اقوام عالم میں احساس و ضمیر کی رہی سہی رمق اس صدائے پُر خلوص پر توجہ دے گی، اور عالمی ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے ایک انقلابی پروجیکٹ کا آغاز کرے گی۔

Reader Comments (0)

No comments yet. Be the first to review!

Leave a Comment

| |