FitratAurMahool (Page 6)

Read in:
انسان کی دست برد اور مداخلت کاری سے مکمل محفوظ تھے اور سمندروں پر انسان کا تسلط تو ابھی قائم ہی نہیں ہوا تھا تو پھر قرآن مُبین میں اس ساری حقیقت کو ماضی کے واقعے کی طرح کیوںپیش کیا گیا؟ اس لیے کہ رب العالمین کا نظام قدرت ہر سیارے اور کُرے کے نظام شمسی کے گرد اُن سیاروں اور کروں کی گردش سے ترتیب پانے والے گردشِ لیل و نہار کے نظام اور ماضی حال اورمُستقبل کے دائروں سے مکمل ’’مافوق اور ماوراء‘‘ ہے۔ اُس کے ہاں ماضی مُستقبل کا کوئی تصور ہی نہیں ہے اس لیے نظام قدر ت کی دُوربینی اور پیش بینی کی صلاحیت کسی سیارے اور کُرے میں وقت کی گردش کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کسی بھی صورت حال کو اُس کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی اُس کا مشاہدہ بھی کرسکتی ہے اور اس کی گھمبیر تا اور سنگینی کا تجزیہ بھی کر سکتی ہے۔ سولہویں صدی سے اپنی شروعات کرنے والے صنعتی انقلاب کا نام پانے والے انسانی تہذیب کی تباہی و بربادی کے المیے اور اس کی ناپاک کوکھ سے جنم لینے والی تباہ کن اور المناک صورتحال کی سنگینی کا مشاہداتی تجزیہ قرآن حکیم نے ہزار سال پہلے ہی کس طرح وضاحت کے ساتھ کر دیا تھا۔ بارود کی بوجھل بُو لے کر شاہراہوں کے عین وسط میں چلتے ہوئے ہیبت پیدا کرنے والے، مکروہ شکل کے ٹینک اور توپ گاڑیاں ہلاکت اور بربادی کے بوجھ اُٹھائے ہوئے، ایٹمی میزائل کیمیائی میزائل اور جرثومی میزائل اور ان کے بطون سے نکل کر شعلے بھڑکاتی ہوئی آگ اور لرزہ فگن آگ میں بھسم ہوتی ہوئی انسانی تہذیب معصوم بچوں کی بھُنی ہوئی، ناقابل شناخت لاشیں شہروںاور دیہاتوں میں محلوں اور گلیوں میں بہتا ہوا بے گناہ انسانی خون حیرت اور وحشت میں ڈوبی ہوئی آنکھوں کے سامنے کھنڈرات میں تبدیل ہو جانے والی شاندار عمارتیں اور بوسیدہ مکانوں کے راکھ میں تبدیل ہو جانے والے ڈھیر لاطینی امریکہ نکاراگوا، السلواڈور، ایکواڈور، وینزویلا، گرنینڈ، کولمبیا، پانامہ، ویتنام، کوریا، لاؤس، کمبوڈیا، بولیویا، چلی، انگولا، کشمیر، فلسطین، ایران، عراق، لبنان، شام، یمن، سعودیہ،۔ اسرائیل، تیونس میں جنگ کے شعلوں میں جلتی ہوئی انسانی تہذیب بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، سکم، نیپال، بھوٹان، برما، میانمر، سری لنکا، میزدرام، ناگا لینڈ، ہما چل پردیش، میں آگ اور شعلوں میں جلتے ہوئے انسانی تمدن، افغانستان، ازبکستان، جارجیا میں جاری تصادم کیا یہی انسانی تہذیب کے لیے سولہویں صدی سے شروع ہونے والے صنعتی ترقی کے نام نہاد عہد کے خاک و خون میں لتھڑے ہوئے قیمتی تحفے ہیں؟ اور اس سے آگے صنعتی ترقی کے منطقی نتیجے میں پیدا ہونے والے امریکی و یورپی سامراج اور مظلوم انسانوں کی ہڈیوں سے اپنے ہوس ناک پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے اپنے خونخوار جبڑوں کو کھول کر نکلنے والے چینی سامراج کی درندگی و سفاکی کیا کیا گل کھلائے گی؟ ’قرآن حکیم اس تباہی و بربادی کے ہوش اُڑا دینے والے منظر کے بعد بھی انسانی تہذیب کے خوشگوار مستقبل کے چراغِ تہ داماں کی لَو اور امن و سلامتی کے یقینی وعدے سے دستبردار نہیں ہوا۔ اب بھی انسانیت کے لیے آس اور اُمید کے دروازے قرآن مُبین نے کھول رکھے ہیں۔ قران حکیم تو بَموں کی گڑگڑاہٹ اور توپوں کی چنگھاڑ میں بھی روشنیوں اور مسرتوں کے دیے جلانے والی کتاب ہے۔ نا امیدی اور مایوسی کا رب العالمین کے ہاں کوئی جواز نہیں ہے۔ یہ تو مظلوم اور بے شعور انسانی نسلوں کی اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے سلگائی ہوئی آگ ہے جس کی ہلاکت خیز تپش انہی بے شعور نسلوںکی معصوم اولاد کو بے حسی کے جُرم کی پاداش میں جلا رہی ہے اور اس وقت تک یہ بے شعور نسلیں سامراجی قوتوں کی دھکائی ہوئی آگ میں جلتی رہیں گی۔ جب تک یہ رب العالمین کے عطا کردہ الٰہی آفاقی شعور اور ترقی انگیز پروگرام اور رسول رب العالمین کے ظلم شکن نصب العین کو دل وجان کے خلوص سے اپنا نہیں لیتیں۔ انسانیت نے اللہ رب العالمین اور رسول رب العٰلمین سے بے وفائی کر کے ظلم کی آگ کو اپنا مقدر بنا لیا ہے۔ مظلومیت کی مصیبت نے جہاں سے اپنا آغاز کیا ہے وہیں سے اس مصیبت کے خاتمے کا آغاز بھی ہو گا۔ فطرت سے انحراف کی انسانی عادات

Reader Comments (0)

No comments yet. Be the first to review!

Leave a Comment

| |