FitratAurMahool (Page 5)

Read in:
عظمت اور تقدیس اور قہر و غضب کا احساس کرو کہ تمھاری زندگی کی بنیاد بننے والے سیارے یعنی کرئہ ارضی پر اربوں سال سے جاری و ساری زندگی کے امکانات عنقریب ختم ہونے والے ہیں۔ اور ہر سیارے کا مقدر بننے والی، اور اس پر زندگی کے نظام کی تکمیل کر دینے والی ’’قیامت‘‘ کرئہ ارضی کا مقدر بننے والی ہے اور تم اگر اپنے احساس و ضمیر کی گہرائیوں میں اتر کر سوچو کرئہ ارضی پر بقا اور توسیع کے امکانات کے خاتمے کی سوچ ہی تمہیں لرزا کر رکھدے۔ تمارا آفاقی اور انفسی حقائق کی تفتیش و تحقیق کے نتیجے میں پیدا ہونے والا کائناتی شعور تمہیں زندگی کے مستقل قیام کے لئے عارضی انہدام اور کرئہ ارضی پر زندگی کی بساط لپیٹے جانے کی قیامت خیز گھڑیوں کی واقعاتی حقیقت سے تمہیں آگاہ اور سرشار کردے۔ کرہ ارضی کی وسعتوں اور تنگنائیوںاورگہریسمندروں کی بے انت گہرائیوں میں فطرت کا عدل و توازن تخریب کار انسانی گروہوں کے ہاتھوں تباہ و برباد ہو گیا ہے۔ درندگی اور سفاکی کا مسلسل مظاہرہ کرتے کرتے باؤلا ہو جانے والا عالمی سامراج اور اس کی درندگی کے سہولت کار پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے بے ضمیر حکمران اور انسانیت کے خون کے پیاسے مذہبی درندے، ملٹی نیشنل کمپنیاں اور رب العالمین کی معصوم اور بے کس مخلوق کی بوٹیاں نوچنے والی خونخوار خفیہ ایجنسیاں اور ہوسِ زراندوزی کی کمینگی میں مبتلا ڈرگ مافیاز اور ہلاکت خیز اسلحے کی سمگلنگ میں ملوث سفاک ایجنٹ، یہ ہیں رب العالمین کے لئے اور اس کی جلالت مآب قدرت کے لئے ناقابل برداشت ظلم و سفاکی کی غلاظت میں لتھڑے ہوئے ذلیل انسانیت دشمن گروہ جنہوں نے صفحہ زمین پر انسانیت کا جینا حرام اور انسانی ماحول کو تباہ برباد کر رکھا ہے۔ قرآن حکیم صدیوںپہلے اس ہولناک منظر کی نقشہ کشی سورۃ الروم کی ان آیات بیینات میں تفصیلاً کر چکاہے۔آیات مبارکہ یوں ہیں، کرئہ ارض کی وسعتوں اور سمندر کی گہرائیوں میں انسان نما درندوں کے ہاتھوں انسانی نسلوں اور دیگر انواع حیات کا امن و سکون کا فطری ماحول غارت ہو کر رہ گیاہے۔ قوانین فطرت اور دست قدرت ان سفاک اور تخریب کاروں قوتوں کا پنجہء استبداد مروڑ کر رہے گا تا کہ وہ اپنی ستم رانیوں کے قابل ہی نہ رہیں اور میرے رسولﷺ آپ اپنے گردو پیش کے علاقوں میں بسنے والے تخریب کار فسادی گروہوں کو انتباہ کر دیں کہ صحرائے عرب اور اس کے قرب جوار میں گھوم پھر کر دیکھو! کہ کس طرح تم سے پہلے صفحہ زمین پر بسنے والی تہذیبوں اور فساد برپا کر نے والے تمدنوں کوتخریب و تباہی کی روش اپنانے کی وجہ سے ہم نے صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا۔ ان طاقتور تہذیبوں نے رب العالمین کی بالادست اور لاشریک اتھارٹی کے مقابلے میں جھوٹی اور باطل اتھارٹیوں کو اپنا خدا بنا لیا تھا۔ اور ان کے تخریب و فساد کے پروگروموں کی تعمیل و تابعداری کو اپنا شیوہ اور معمول بنا لیا تھا۔ قوانین فطرت کی خلاف ورزی کا بدترین انجام کیا ہوتا ہے؟ تم ان اُجڑی ہوئی بستیوں کے کھنڈرات اور ہلاک شدہ تمدنوں کے آثار کے مشاہدے کے بعد اندازہ کرنا۔ اور میرے رسولﷺ آپ اور آپﷺ کی دعوت برحق پر ایمان لانے والے اور پھر خلوص عمل کے ساتھ قوانین فطرت کی پابندی اور پاسداری کو اپنا شعار بنانے والے میرے پُر خلوص بندوں کو چاہئے کہ قوانین رب العالمین پر بے لاگ انداز میں ایمان لانے کے بعد ساری دنیا سے اپنا منہ موڑ لیں۔ پس صرف رب العالمین کی عظمت و کبریائی کا ڈنکا بجائیں اور اس کی جلالت مآب اتھارٹی کو دنیا پر ثابت کریں۔ اس وقت کی آمد سے پہلے جب آئین رب العالمین سے روگردانی کے بدترین انجام سے خلاصی اور نجات کی کوئی صورت باقی نہ رہے گی۔ اور ذلت ناک عذاب کا حیرت ناک سماں بدنہاد قوموں پر طاری ہو جائے گا۔ (سورۃ الروم آیات نمبر ۴۱،۴۲،۴۳) اور جب یہ آیات مبارکہ رسول ؐاللہ کے قلب مبارک پر اُتر رہی تھی اس وقت زمین کے مختلف خطے تو انسانی نسلوں کے ظالم اور مظلوم طبقات کے درمیان کشمکش کی آماجگاہ بنے ہوئے تھے۔ اور فسادفی الارض کی وحشت ناک صورتحال برپا تھی۔ مگر آج کی دنیا کی بدترین وحشت ناکی کا تو عشر عشیر بھی نہیں تھی۔ مگر رسول اللہﷺ کے زمانے میں دنیا کے سمندر تو

Reader Comments (0)

No comments yet. Be the first to review!

Leave a Comment

| |