Content not available in English.
العالمین کے عطا کردہ الٰہی آفاقی شعور اور ترقی انگیز پروگرام اور رسول رب العالمین کے ظلم شکن نصب العین کو دل وجان کے خلوص سے اپنا نہیں لیتیں۔ انسانیت نے اللہ رب العالمین اور رسول رب العٰلمین سے بے وفائی کر کے ظلم کی آگ کو اپنا مقدر بنا لیا ہے۔ مظلومیت کی مصیبت نے جہاں سے اپنا آغاز کیا ہے وہیں سے اس مصیبت کے خاتمے کا آغاز بھی ہو گا۔ فطرت سے انحراف کی انسانی عادات نے ماحولیاتی آلودگی کی بہت سی مکروہ شکلوں کو اپنے ماحول پر مسلط کر دیا ہے جن میں سے کچھ تو عالمی اور بین الاقوامی ہیں اور کچھ برصغیر کے مخصوص خطے اور خصوصاً پاکستانی ریاست اور یہاں کے معاشرے کی پیدا کردہ ہیں۔ اپنی ترتیب میں عالمی ماحولیاتی مسائل اولین اور کلیدی ہیں جن میں سب سے پہلے اور بہت ہی واضح مسائل یہ ہیں۔ (1) آلودہ ہوا اور موسمیاتی تبدیلیاں اولین مسئلہ ہیں۔فضا میں سمندری پانیوں میں ضرر رساں کاربن گیسیں بڑھ رہی ہیں۔ اس کا ایک پہلو تو منفعت بخش ہے یعنی فضا اورسمندروں کے پانیوں کا گرم ہونا۔ اگر ایسا نہ ہو تو ہماری دہرتی منجمد ہو کر رہ جائے۔لیکن معدنی ایندھن اور زراعت و دیگر مقاصد کے لیے جنگلات کی کٹائی اورصنعتی سرگرمیوں کے باعث گیسوں کی مقدار جو 200سال قبل ازیں 280پی پی ایم یعنی پارٹس پر ملین تھی اب بڑھ کر 400پی پی ایم ہو چکی ہے۔ جو شمار اموات کا باعث بھی بن رہی ہیں (2) زراعت کے لیے زمین کے حصول یا مویشی رکھنے کے لیے زمین کا حصول یا ناجائز منافعوں اور ناجائز تجارتی مقاصد کے مجرمانہ حصول کے لیے جنگلات کی بیدریغ کٹائی کی جارہی ہے اور استعوائی خطوں کے انواع حیات سے معمور جنگلوں کا ظالمانہ انداز میں صفایا کیا جارہا ہے۔ فی زمانہ زمین کا 30فیصد حصہ جنگلات سے ڈھکا ہوا ہا جن کا ایک اہم کام کاربن گیسیں جذب کرنا بھی ہے۔ ہر سال 18ملین ایکٹر رقبے پر پھیلے جنگلات کاٹ دیئے جاتے ہیں (3) زمین کی خشکی اور سمندر کی گہرائیوں میں انسان کی ظالمانہ سرگرمیوں کے باعث مختلف انواع کے جانور اور مچھلیوں کے بے پناہ قیمتی انواع اس وحشیانہ حد تک شکار کی جارہی ہیں کہ خوفناک حد تک ان قمیتی انواع حیات کی بقاء اور سلامتی زمین کی خشکی اور سمندرمیں خطرے میں پڑ چکی ہے (4) زمین کا لمحہ بہ لمحہ کم ہوتی ہوئی زرخیزی کی صلاحت بھی ایک بڑاماحولیاتی مسئلہ ہے۔ حد سے زیادہ درختو ں کی کٹائی، کاشتکاری کے نت نئے طریقے، زہریلی کیمیائی کھادوں کا استعمال، ایک ہی طرح کی فصلو ں کی مسلسل کاشت، اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق سالانہ بارہ بلین ہیکٹر زرعی رقبے کی زرخیزی کی صلاحیت کو طرح طرح سے نقصان پہنچایا جا رہا ہے (5)اور سب سے زیادہ اور خوفناک حد تک عالمی زمینی ماحول کے لیے خطرے کا مسئلہ جن کا بین الاقوامی اداروں کی تجزیاتی رپورٹوں میہں قصداً تذکرہ نہیں کیا جاتا۔ وہ ہے عالمی سامراج کی طرف سے دنیا کے مختلف خطوں اور براعظموں میں بھڑکائی ہوئی جنگوں میں انسانیت کی ہلاکت کے غاروں میں دھکیلنے والی اور زمینی خطوں کو ہمیشہ کے لیے جھلسا دینے والی سوز ناک بمباری جس کی وحشت ناک گڑگڑاہٹ کی یاد سے ہی انسانی روغ کانپ کانپ اٹھتی ہے اور سہم سہم کر رہ جاتی ہے۔ جس کا خون خوار اور انسانیت سوز لیبارٹریوں اور فیکٹریوں کی انسپکشن کے لیے اور ان کی ہلاکت خیزی کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ یا کسی دوسرے عالمی ادارے کی طرف سے کوئی انسپکشن ٹیم قائم کی گئی اور نہ ہی عالمی ماحول کی تباہی کے اس بنیادی خطرے کی طرف کوئی توجہ دی گئی۔ ترقی یافتہ اقوام کا ضمیر اور احساس مر گیا ہے جب کہ پسماندہ اور جاہل اقوام کا ضمیر اور احساس کا نظام کبھی پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔ کیونکہ ضمیر اور احساس تو سماج کے ذہنی شعور کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے اور ذہنی شعور خود مادی تخلیق و تنظیم کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ ”فطرت اور ماحول“ نامی کتاب ترقی یافتہ عالمی اقوام کے مردہ احساس و ضمیر کے قبرستان میں صور اسرافیل پھونکنے کی ایک پر خلوص کوشش ہے کیونکہ ترقی یافتہ اقوام کے شعور و احساس کی بیداری ہی آلودگی اور تعفن سے پاک دامن کی خوشبو دے معتر زمینی انسانی ماحول کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے امن و سلامتی کے عالمی ماحول کے بغیر انسانی سلامتی اور ترقی کا کوئی خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ صنعتی ترقی کے ہولناک ڈرامے نے پانچ سو سال میں انسانیت کی چیخوں اور کراہوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ صنعتی ترقی کے پروگرام کا ”لیور“ اگر قرآن مبین کے ہاتھ میں ہوتا یا قرآن حکیم جیسی آفاقی صداقت کی حامل کتاب پر غاصبانہ قبضہ جمانے والی مسلمان صنعتی ترقی کے پروگرام کا آغاز کرتے تو آج زمین
Reader Comments (0)
No comments yet. Be the first to review!
Leave a Comment