FitratAurMahool (Page 4)

Read in:
شعار بنانے والے میرے پر خلوص بندوں کو چاہئے کہ قوانین رب العالمین پر بے لاگ انداز میں ایمان لانے کے بعد ساری دنیا سے اپنا منہ موڑ لیں۔ پس صرف رب العالمین کی عظمت و کبریائی کا ڈنکا بجائیں اور اس کی جلالت مآب اتھارٹی کو دنیا پر ثابت کریں۔ اس وقت کی آنے سے پہلے جب آئین رب العالمین سے روگردانی کے بدترین انجام سے خلاصی اور نجات کی کوئی صورت باقی نہ رہے گی۔ اور ذلت ناک عذاب کا حیرت ناک سماں بدنہاد قوموں پر طارہ ہو جائے گا۔ (سورۃ الروم آیات نمبر ۱۴،۲۴،۳۴) اور جب یہ آیات مبارکہ رسول اللہؐ کے قلب مبارک پر اُتر رہی تھی اسوقت زمین کے مختلف خطے تو انسانی نسلوں کے ظالم اور مظلوم طبقات کے درمیان کشمکش کی آماجگاہ بنے ہوئے تھے۔ اور فسادفی الارض کی وحشت ناک صورتحال برپا تھی۔ مگر آج کی دنیا کی بدترین وحشت ناکی کا تو عشر عشیر بھی نہیں تھی۔ مگر رسول اللہﷺ کے زمانے میں دنیا کے سمندر تو انسان کی دست برد اور مداخلت کاری سے مکمل محفوظ تھے اور سمندروں پر انسان کا تسلط تو ابھی قائم ہی نہیں ہوا تھا تو پھر قرآن مُبین میں اس ساری حقیقت کو ماضی کے واقعے کی طرح کیوں پیش کیا گیا؟ اس لیے کہ رب العالمین کا نظام قدرت ہر سیارے اور کُرے کے نظام شمسی کے گرد اُن سیاروں اور کروں کی گردش سے ترتیب پانے والے گردشِ لیل و نہار کے نظام اور ماضی حال اور مُستقبل کے دائروں سے م کمل ”مافوق اور موراء“ ہے۔ اُس کے ہاں ماضی مُستقبل کا کوئی تصور ہی نہیں ہے اس لیے نظام قدر ت کی دُوربینی اور پیش بینی کی صلاحیت کسی سیارے اور کُرے میں وقت کی گردش کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کسی بھی صورت حال کو اُس کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی اُس کا مشاہدہ بھی کرسکتی ہے اور اس کی گھمبیر تا اور سنگینی کا تجزیہ بھی کر سکتی ہے۔ سولھویں صدی سے اپنی شروعات کرنے والے صنعتی انقلاب کا نام پانے والے انسانی تہذیب کی تباہی و بربادی کے المیے اور اس کی ناپاک کوکھ سے جنم لینے والی تباہ کن اور الم ناک صورتحال کی سنگینی کا ہگرا مشاہداتی تجزیہ قرآن حکیم نے ہزار سال پہلے ہی کسی طرح وضاحت کیے ساتھ کر دیا تھا۔ بارود کی بوجھل بُو لے کر شاہراہوں کے عین وسط میں چلتے ہوئے ہیبت پیدا کرنے والے، مکروہ شکل کے ٹینک اور توپ گاڑیاں ہلاکت اور بربادی کے بوجھ اُٹھائے ہوئے، ایٹمی میزائل کیمیائی میزائل اور جرثومی میزائل اور ان کے بطون سے نکل کر شعلے بھڑکاتی ہؤی آگ اور لرزہ فگن آگ میں بھسم ہوتی ہوئی انسانی تہذیب معصوم بچوں کی بھنی ہوئی، ناقابل شناخت لاشیں شہروں اور دیہاتوں میں محلول اور گلیوں میں بہتا ہوا بے گناہ انسانی خون حیرت اور وحشت میں ڈوبی ہوئی آنکھوں کے سامنے کھنڈرات میں تبدیل ہو جانے والی شاندار عمارتیں اور بوسیدہ مکانوں کے راکھ میں تبدیل ہو جانے والے ڈھیر لاتینی امریکہ نکاراگوا، السلواڈور، ایکواڈور، وینزویلا، گرنینڈ، کولمبیا، پانامہ، ویتنام، کوریا، لاؤس، کمبوڈیا، بولیویا، چلی، انگولا، کشمیر، فلسطین، ایران، عراق، لبنان، شام، یمن، سعودیہ،۔ اسرائیل، تیونس میں جنگ کے شعلوں میں جلتی ہوئی انسانی تہذیب بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، سکم، نیپال، بھوٹان، برما، میانمر، سری لنکا، میزدرام، ناگا لینڈ، ہما چل پردیش، میں آگ اور شعلوں میں جلتے ہوئے انسانی تمدن، افغانستان، ازبکستان، جارجیا میں جاری تصادم کیا یہ ہی انسانی تہذیب کے لیے سولہویں صدی سے شروع ہونے والے صنعتی ترقی کے نام نہاد عہد کے خاک و خون میں لتھڑے ہوئے قیمتی تحفے ہیں؟ اور اس سے آگے صنعتی ترقی کے منطقی نتیجے میں پیدا ہونے والے امریکی و یورپی سامراج اور مظلوم انسانوں کی ہڈیوں سے اپنے ہوس ناک پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے اپنے خونخوار جبڑوں کو کھول کر نکلنے والے چینی سامراج کی درندگی و سفاکی کیا کیا گل کھلائے گی؟ ’قرآن حکیم اس تباہی و بربادی کے ہوش اُڑا دینے والے منظر کے بعد بھی انسانی تہذیب کے خوشگوار مستقبل کے چراغِ تہ داماں کی لَو اور امن و سلامتی کے یقینی وعدے سے دستبردار نہیں ہوا۔ اب بھی انسانیت کے لیے آس اور اُمید کے دروازے قرآن مُبین نے کھول رکھے ہیں۔ قران حکیم تو بَموں کی گڑگڑاہٹ اور توپوں کی چنگھاڑ میں بھی روشنیوں اور مسرتوں کے دیے جلانے والی کتاب ہے۔ نا امیدی اور مایوسی کا رب العالمین کے ہاں کوئی جواز نہیں ہے۔ یہ تو مظلوم اور بے شعور انسانی نسلوں کی اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے سلگائی ہوئی آگ ہے جس کی ہلاکت خیز تپش انہی بے شعور نسلوں کی معصوم اولاد کو بے حسی کے جُرم کی پاداش میں جلا رہی ہے۔ اور اس وقت تک یہ بے شعور نسلیں سامراجی قوتوں کی دھکائی ہوئی آگ میں جلتی رہیں گی۔ جب تک یہ رب

Reader Comments (0)

No comments yet. Be the first to review!

Leave a Comment

| |