Content not available in English.
زندگی کا داخلی اور خارجی ماحول:
دنیا میں وسائل ترقی اور اسباب زندگی پر غاصب قوتوں کا ناجائز قبضہ سب سے بڑی آلودگی ہے،مگر آلودگی کا ذکر تو بعدمیں آئے گا پہلے ماحول کی تعریف متعین کر لی جائے ’’ماحول‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے اور قرآن حکیم میں یہ اصطلاح بار ہا وارد ہوئی ہے۔ ماحول گردوپیش کو کہتے ہیں اور ماحول سے مراد انسانی فرد اور معاشرے کے گردو پیش کا محاصرہ کرنے والی صورتحال ہے۔ ایک فردکا ماحول سوسائٹی بھی ہو سکتی ہے۔ جینیاتی ورثہ بھی ایک ماحول ہے کیونکہ وہ بھی ایک مسلط صورتحال ہے جس کے تسلط سے انسان کبھی بھی آزاد نہیں ہو سکتا۔ ماحول فرد اور سوسائٹی کے اردگرد واقع صورتحال کے مثبت اورمنفی دونوں پہلو ہو سکتے ہیں۔ انسان ایک جغرافیائی صورت حال کا ہمیشہ پابند رہتا ہے لہٰذا جغرافیہ بھی انسان کا ماحول ہوتا ہے۔ انسان جبلی طور پر ایک حیوان ہے چاہے وہ ناطق ہی کیوں نہ ہو۔ اس لئے حیوانی زندگی کے ارتقاء کے مختلف تاریخی ادوار اور مرحلے اُس کا تاریخی ماحول ہیں جب سے انسان نے آلات و اوزار بنانے کی ذہانت کا مظاہرہ کر کے محنتوں اور ذہانتوں کےاستعمال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثاثوں کے تبادلے کا نظام وضع کر لیا۔آلات و اوزار کی تخلیقی ذہانت تو اسکی حیوانی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے تھی۔ مگر دُنیا میں چونکہ ہر ایک واقعے اور حادثے یا تجربے کا کوئی فطری محرِک تو ضرور ہوتا ہے اور مادی تنظیم کا فطری محرک انسان کی ضرورتیں تھیں جوخوراک، لباس اور مسکن تک محدود تھیں۔
تخلیقی ذہانت:
مگر تخلیقی ذہانت کے استعمال کے منطقی نتیجے کے طور پر اسکی ضرورتوں کا نظام بھی بدل گیا۔ خوراک و پوشاک کیلئے شکار کئے جانے والے جانوروں کی کمیابی نے اسے زمین کی کوکھ کی طرف متوجہ کر دیا۔ جہاں سے اس نے زمین کی زرخیزی کا راز معلوم کر لیا۔
مشترکہ تخلیقی عمل اور اشتراکی معاشرہ:
زمین کے ساتھ وابستگی اور اجناس کی احتیاج نے انسان کو دوسرے انسانوں کی رفاقت پر آمادہ کیا جو محنت اور ذہانت کے مشترکہ خاندان کی بنیاد بن گیا۔ مشترکہ محنت مشترکہ تخلیقی ذہانت کا استعمال مشترکہ خاندان کی تشکیل کے علاوہ اسکی تخلیقی ذہانت میں اضافے کا باعث بنتا گیا۔تخلیقی عمل کے دورانیے میں بیک وقت دو چیزیںایک ساتھ پیدا ہوتی ہیں جن میں سے ایک انسان کے پیشِ نظر رہتی ہے جنہیں مصنوعات کہا جاتا ہے جو تبادلے کی قدر بن کر منافع کی قدر قرار پاتی ہیں۔
تخلیقی ذہانت:
وقتی منافع کا حصول ہمیشہ سے انسان کا مطمعِ نظر رہا ہے مگر تخلیقی عمل کے دورانیے میں حاصل ہونے والی قیمتی دولت جو اکثر انسان کی نظروں سے اوجھل رہتی ہے وہ انسان کی تخلیقی ذہانت کا اچانک بڑھ جانے والا اثاثہ ہوتا ہے جو محنت و ذہانت کے استعمال کے تخلیقی عمل کے اگلے دورانیے میں پچھلے دورانیے کی تخلیقی عمل کے نقص کو دُور کردیتا ہے اور اشیاء اور مصنوعات کی کوالٹی اور معیار میں بہتری کا باعث بھی بنتا ہے اور انسانی فرد کا شعور بن کر ذہن کی تاریکیوں میں روشنیوں کا باعث و بنیاد بھی بنتا ہے اور حافظہ و یاداشت کے فروغ کا باعث بھی اسی ذہنی محفوظ ورثے کی یاد انسانی ذہن میں تخلیقی ماحول کی بنیاد بنتی ہے۔
Reader Comments (0)
No comments yet. Be the first to review!
Leave a Comment