Content not available in English.
انسانی ذہن کا ارتقاء:
انسانی ذہن نے لاکھوں سال پہلے مادے اور توانائی کی فطری حیثیت جاننے اور ان کی ساخت و ماہیت میں من پسند تبدیلیوں کی کوششوں کے ساتھ اپنے عظیم الشان ارتقاء کا آغاز کیا۔
تصوراتی سائنس:
توانائی کی فطری حیثیت کے فہم کی کوششوںمیں کامیابی کا تسلسل اس کے ارتقاء کی پیمائش کا آلہ اور اس کے ارتقاء کی تیز رفتاری کا بنیادی وسیلہ اور کلیدی ذریعہ بن گیا۔ فطری مناظر کی نقش گری اور قدرتی مناظر کی عکس بندی کو تصور اور تصور کی تنظیم و تشکیل کے عمل و حسن کو تصوراتی سائنس کہا جاتا ہے۔
انسانی سماج کی تشکیل:
انسانی ذہن کے ارتقاء کے لاکھوں سالہ دورانیے کے آغاز سے لے کر اب تک تصوراتی سائنس ہی فطری مظاہر اور قدرتی مناظر کے ساتھ انسانی ذہن کے رابطے کا بنیادی وسیلہ رہی ہے۔ انسانی ذہن کے ارتقاء کا انحصار تصور کی وسعت پر ہے اور تصورات کی وسعت کی تشکیل و تنظیم کو تصوراتی سائنس کہا جاتا ہے۔ یہی تصوراتی سائنس ہے جس نے اپنی کوکھ سے دیگر سائنسوں کو جنم دیکر انسانی ذہن کے ارتقاء کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ انسان کے لئے زمینی اور کائناتی وسائل کو زندہ اور متحرک بنا کر صنعتی تخلیقی عمل کے قابل کر کے پیداواری عمل کی بنیاد دیکر تبادلوں کے قابل بنایا اور تخلیقی پیداواری عمل اور تبادلے کی بے پناہ وسیع بنیاد پر انسانی سماج کی تخلیق و تشکیل کی ہے۔ تصوراتی سائنس کے حسن نے ڈرائینگ کو بہتر کیا۔ ڈرائینگ نے ٹیکنالوجی کی بہتری کی بنیاد ڈالی اور ٹیکنالوجی کی بہتری نے زرعی پیداواری عمل کی بہتری کے ذریعے قدیم زرعی معاشرہ پیدا کیا۔ قدیم زرعی معاشروں نے صرف ضرورتوں کی تکمیل کے لیے محنت اور پیداواری عمل کیا۔ جس سے ضرورتیں روزافزوں بڑھتی
Reader Comments (0)
No comments yet. Be the first to review!
Leave a Comment