Content not available in English.
فطرت کی قوت ناظمہ:
فطرت کی قوت ناظمہ کائنات سے لیکر حیات تک اور حیات سے انواع حیات تک زندگی کی بو قلمونی اور رنگا رنگی کے باوصف کارگاہِ حیات کے ہر ذرے اور عنصر کے لئے اسباب بقائے زندگانی اور اسباب بقائے فروغ زندگی کا مسلسل اور پہیم انتظام کر رہی ہے۔ باریک ترین خلیات میں شوق حیات ہر لحظہ فزوں تر ہو رہا ہے۔ فطرت حیات کے اثاثوں میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔ جب ایک سیارہ اپنی تمام حیات اور مخلوق سمیت فنا کے گھاٹ اتر رہا ہوتا ہے اس وقت اسی ناپیدا کنار کائنات کے دوسرے کناروں پر قدرت کے مسلسل اور پرزور اصرار پر ہزاروں لاکھوں سیاروں پر کروڑوں قسم کی انواع حیات سمیت فطرت زندگی کی خیرات بانٹ رہی ہوتی ہے۔ ہر آن اور ہر لحظہ لاکھوں سیارے پیدا ہوتے اور فنا کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔
ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں
سکون محال ہے قدر ت کے کارخانے میں
کرہ ارض پر زندگی کے آثار:
سائنسی تحقیق کے مطابق کرئہ ارض پر زندگی کے آثار پیدا ہونے میں کروڑوں سال لگ گئے۔ جب تک کسی سیارے پر اسباب حیات کا انفراسٹرکچر مکمل نہیں ہو جاتا فطرت کی قوت ناظمہ اس وقت تک اس سیارے اور کرّے پر انواع حیات کی آبادی کا اعلان ہی نہیں کرتی۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ وسعتِ کونین میں ہر لمحہ جنم لینے والے سیاروں کی ساخت پر دوسرے سیاروں کا میٹریل فطرت کی مناسبت کے تحت استعمال کر لیا جائے۔ مگرایسا بالکل ناممکن ہے کہ کسی سیارے کے ماحول ٹمپریچر اور کیمیکل کے علاوہ اس سیارے پر نمودار ہونے والی انواع حیات کی ساخت اور ریخت میں کسی اور سیارے کا میٹریل استعمال کیا جائے۔
کرہ ارض کی ساخت:
کرہ ارض کی ساخت و تخلیق میں دوسرے سیاروں پر سے برفانی گلیشیئر کی بوچھاڑ کی صورت بے پناہ میٹریل کی مقدار شامل ہو گئی۔ قدرت کی ایک صفت ’’الحی‘‘ بھی ہے یعنی حیات اور اسبابِ حیات کا انتظام و انصرام کرنے والی ہے، وہ کائنات کے ہر ذرے کو اپنے اظہار کے لئے مواقع فراہم کرتی ہے۔ وہ باریک ترین خلیات میں شوقِ حیات کو مہمیز دیتی رہتی ہے۔
زندگی کی کیمیائی ترکیب:
وہ مادہ منویہ کے ہر ایک قطرے میں کروموسوم کی ایک معقول تعداد اور ہر ایک کروموسوم میں لاکھوں جینز پیدا کرتی ہے۔ وہ ڈی۔ این۔ اے کو انتخابِ طبعی کا شعور عطا کرتی ہے۔ وہ مادے اور توانائی جیسی حقیقتوں سے زندگی کا تانا بانا بنتی ہے۔ وہ توانائی کی فطرت میں پھیلاؤ ڈالتی ہے۔ اور مادے کی فطرت میں توانائی کو قید کرنا ودیعت کرتی ہے۔ وہ توانائی کو مجسم کر کے مادہ اور مادے کو پھیلا کر توانائی بنا دیتی ہے۔ وہ مادے کو انرجی ٹریب بنا کر ایٹم کو اسکی پہلی اکائی بناتی ہے جو توانائی کے فرار کو روکنے والا حصار ہوتاہے۔ الیکٹران پازیٹران کوارکس پروٹانز اور نیوٹرانز کے پیکٹوں کو ملا کر فطرت ایٹم بناتی ہے۔ اور نیوٹران کے مواد کوایٹم میں گوندکے طور پر استعمال کرتی ہے توانائی کے مختلف پیکٹوں نے ملکر ایمائینو ایسڈ اور ایمائینو ایسڈز نے ملکر شوگرپروٹانز اور ڈی۔این۔اے کے بڑے بڑے مالیکیولز ایجاد کئے۔ ڈی۔ این۔اے کے سالموں نے خلیے اور خلیوں نے آگے زندگی کے کئی سسٹمز ایجاد کئے۔ فطرت کی کیمیا گری کی صلاحیت نے مادے کے بہت سے پرزے جوڑ کر ایک مشین تیار کی جسے زندگی کہتے ہیں۔ زندگی الیکٹرمیگنٹ نیوکلیئر اور کششِ ثقل کی توائنائیوں کو کیمیائی سالموں میں قید کر کے حسب ضرورت کنٹرول ریٹ پر استعمال کرتی ہے۔ فطرت نے زندگی ماحول سے ایجاد کی اور ماحول کے عناصر کیمیاوی عمل سے گزرتے گزرتے زندگی کی
منزل تک پہنچ گئے لیکن ماحول کے پیدا کرنے میں خود زندگی کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ زمین کو آج جو ماحول حاصل ہے یہ سب زندگی کا پیدا کردہ ماحول ہے۔ اگر نباتات نہ ہوتے تو ضیائی تالیف کے بغیر آکسیجن پیدا نہ ہوتی۔ آکسیجن نہ ہوتی تو اوزون گیس نہ ہوتی۔ ہماری فضا بھی زندگی کی پیدا کی ہوئی فضا ہے۔ اس فضا میں جو نیلا آسمان نظر آتا ہے یہ آسمان بھی بیالوجی کی تخلیق ہے۔ اس فضاء سے پرے آسمان دن کو بھی رات کی طرح سیاہ نظر آتا ہے۔ مادے نے جتنے انرجی ٹریپس بنائے ہیں یہ زندگی کا ایک پہلو ہے خود انرجی ان ٹریپس کو کیسے توڑتی ہے؟ یہ زندگی کا دوسرا پہلو ہے۔ مادے اور توانائی کے کوڈ زندگی کی زبان ہیں۔ زندگی کا فہم مادے اور توانائی کے کوڈ کی زبان کے فہم میں مضمر ہے۔
Reader Comments (0)
No comments yet. Be the first to review!
Leave a Comment