Content not available in English.
زندگی کا خارجی ماحول:
اگر وسیع تر تناظرات میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ فطرت ایک بہت بڑی انڈسٹری ہے جس میں عاملین تغیرات ارتقاء کی فراست سے سرشار ہو کر محوِ عمل ہیں۔ کرئہ ارض کی فضاء روزِ اولین سے ایسی نہیں جیسی کہ آج ہم پا رہے ہیں ایک وقت تھا کہ زمین پر نباتات تھے نہ حیوانات۔ زمین کا درجہء حرارت اور زمین کی فضاء میں موجود گیسز نباتات اور حیوانات کی زندگی کا وجود برداشت کرنے کے قابل نہ تھیں۔ فضا میں آکسیجن کا کوئی وجود نہ تھا۔ اس لئے حیوانی زندگی کا قیام بالکل ناممکن تھا کیونکہ حیوانات آکسیجن کے بغیر زندہ نہ رہ پاتے۔آکسیجن زمین پر موجود تھی لیکن وہ یا تو پانی کی صورت میں ہائیڈورجن کے ساتھ بندھی ہوئی تھی۔ بادلوں میں برقی عمل سے آبی بخارات آکسیجن اور ہائیڈروجن میں تقسیم ضرور ہوتے تھے۔ لیکن یہ گیسیز برقی شراروں سے پھر دھماکوں کے ساتھ آبی بخارات میں تبدیل ہو جاتی تھیں یا آکسیجن کا کچھ حصہ بادلوں میں پیدا ہونیوالی بجلی کی طاقتور لہروں سے آکسیجن کے تین ایٹمز پر مشتمل اوزون گیس میں تبدیل ہو جاتا رہا یا پھر آکسیجن آکسائیڈ کی صورت میں دوسرے کیمیائی مرکبات مثلاً کاربن ڈائی آکسائیڈ ، سلفر ڈائی آکسائیڈ وغیرہ کی اشکال میں موجود تھی۔ نباتات کی پیدائش کے بعد روشنی کی فوٹو سینتھیز (ضیائی تالیف) سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اورپانی شوگر میں تبدیل ہونے لگے تو بڑی مقدار میں آکسیجن آزاد ہونے لگی پھر حیاتیاتی مادوں کی مسلسل آکسیڈیشن سے حیوانی مواد وجود میں آیا۔ حیوانات آکسیجن کھاتے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے۔ نباتات کاربن ڈائی آکسائیڈ استعمال کرتے اور آکسیجن چھوڑتے۔ بیکٹیریا اور وائرس جب مُردہ حیوانات کو تحلیل کرنے لگے تو آکسیجن، ہائیڈروجن، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور نائیٹروجن کا فضا میں ایک فطری چکر پیدا ہو گیا۔ یوں کروئہ ارض کی فضا ایک حیاتیاتی فضا میں تبدیل ہوگئی۔ نباتات اور حیوانات کے بعد کرئہ ارض کی فضا میں نئی مداخلت کاری صنعتوں کی وجہ سے شروع ہو گئی۔ معدنی تیل اور کوئلے کے استعمال سے کاربن ڈائی آکسائیڈ میں اضافہ ہونے لگا۔ پھر تیل اور کوئلے میں گندھک اور سیسے کے مرکبات جیسی ملاوٹوں کے باعث سلفر ڈائی آکسائیڈ، سلفر مانو آکسائیڈ، لیڈ ،مرکری اور ہیلو جن آکسائیڈ وغیرہ کی مقدار بھی فضا میں موجود ہونے لگی۔ انسانی آبادی میں اضافے کے باعث اور ریلوے ،سڑکوں، فیکٹریوں اور شہروں میں اضافے کے باعث آکسیجن کی کھپت میں اضافہ ہو گیا۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ جس کی آکسیجن علیحدہ کرنے کے لئے نباتات ’’قدرتی فیکٹری‘‘ تھے وہ نباتات کی کمی اور آبادی میں اضافے کے باعث فاضل مقدار میں پیدا ہونے لگی۔ کاربن ، سلفر، لیڈ، مرکری اور ہیلوجن کی آکسائیڈز نے فضا کے آبی بخارات میں جذب ہو کر کرہ ارض کے گرد ایک چادر تان لی جو فضا کے درجہ حرارت میں اضافے کے علاوہ فضاء کے اوپر اوزون گیس کی چھتری پھاڑنے میں بھی مصروف ہے۔ آبادی اور صنعت میں اضافے کی اس روِش میں خوف کا پہلو یہ بتایا جاتا ہے کہ آبادی کی ایک نسل دنیا سے فارغ ہونے سے پہلے آبادی کی فصل دگنی کر دیتی ہے۔ یوں 6 ارب کی آبادی 12اور 18 ارب بن کر زندگی کے نظام کو درہم برہم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ دوسری طرف صنعتی معیشت میں مسابقت کےباعث صنعتی ارتقاء میں تیزی کرہ ارض کی حیاتیاتی فضا کی تباہی کے امکانات پیدا کر رہی ہے اس لیے بعض حلقے کرہ ارض پر زندگی کے نظام کو بچانے کے لئے ایک طرف آبادی اور دوسری طرف صنعتوں پر کنٹرول نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ جن سے حیاتیاتی عناصر کا توازن تیزی سے بگڑتا جا رہا ہے۔ خطرات کی ان گھنٹیوں پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو بے خبری میں کرہ ارض کا حیاتیاتی نظام کسی منحوس چین ری ایکشن کی زد میں آکر تباہ و برباد ہو سکتا ہے۔ اب اگر مذکورہ بالا خطرات کا اور انکے انٹرا یکشنز کا ایک ایک کر کے تجزیہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ارتقاء کی فطری قوتیں فراست کے اپنے نظام کے تحت چل رہی ہیں اور یہ نظام اتنا طاقتور ہے کہ مداخلت کی ہر منفی کاوش کو مسمار کر دیتا ہے۔ ارتقاء کی مخفی قوتوں میں مخفی اسکیم کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ماحول کے عدم توازن میں صدیوں کے مخفی ارضی تغیرات کے باعث نباتات اور حیوانات کے مدفون ذخائر اگر تیل اور کوئلے میں نہ بدلتے تو موجودہ صنعتی دور کو توانائی کیسے دستیاب ہوتی؟ ٹیکنالوجی کو موجودہ صنعتی طاقت دستیاب نہ ہوتی تو ماحول پر کنٹرول کی فراست کیسے دستیاب ہوتی؟ جس طرح حیوانات و نباتات کے ذخائر دفن ہونے سے پہلے صنعتی انقلاب نہیں آسکتا تھا اسی طرح ٹیکنالوجی کی طاقت
Reader Comments (0)
No comments yet. Be the first to review!
Leave a Comment