FitratAurMahool (Page 12)

Read in:
سے پہلے ماحولیاتی کنٹرول ممکن نہ تھا۔ ارتقاء کی فطری اسکیم کو سامنے رکھیں تو سب سے پہلے یہ بات سامنے آتی ہے کہ آبادی اور صنعت کے فروغ پر قدغن لگانا ممکن نہیں۔ آبادی اور صنعت کا فروغ طاقت کا وہ سرچشمہ ہے جس کے بغیر تسخیر کائنات کا عمل ممکن نہیں ہو سکتا۔ صنعت وٹیکنالوجی کا نظام آبادی کے کندھوں پر کھڑا ہے۔ آبادی نصف کریں تو موجودہ صنعتی نظام بھی نصف رہ جائے گا۔ سائنس کا مصرف جتنا کم ہو گا ڈیمانڈ بھی اتنی کم ہو جائے گی۔ صنعت اور آبادی دونوں میں سے کسی پر بین لگانے سے دونوں کی قوت ٹوٹنے لگتی ہے۔ جب زمین پر جنگل ہی جنگل تھا تو حیوانی زندگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ ارتقاء کی فطری قوتیں زندگی کے اس توازن پر مطمئن نہ تھیں پھر حیوانی زندگی میں انسان نے بقاء کی جنگ جیتنے کیلئے صنعتی طاقت پیدا کی۔ توازن کی اس سے بہتر صورت اس سے آگے انتظار کر رہی ہے۔ جب انسان نے سمندروں پر قدم نہیں رکھا تھا۔ سمندری مخلو ق کی آبادی کو محدود کرنے کے لئے اس وقت بھی بڑے بڑے مگر مچھ موجود تھے اور آج وہ ساری مخلوق انسان کے مصرف میں آچکی ہے جنگلی مخلوق اور سمندری مخلوق محدود ہونے کے باوجود انسان نے صنعتی ٹیکنالوجی کی طاقت سے سُبک نَمو مصنوعی مخلوق تیار کرنے کی صلاحیتیں حاصل کر لی ہیں۔ فروغ زندگانی کی اندرونی میکانیت پر قابو پانے کے بعد ’’خوراک‘‘ سائنس کے میدان میں کوئی سنگین مسئلہ نہیں رہا۔ آبادی کی شرح نمو کے مقابلے میں وسائل رزق کی شرح نمو کوٹیکنالوجی بہت آگے لے جا چکی ہے۔ جینیٹک انجینئرنگ، سنتھیٹک کیئر اور چمڑا سنتھیٹک، خوراک اور بلڈنگ میٹریل اسکی زندہ مثالیں ہیں۔ بیکٹریل انجینئرنگ کی وساطت سے ضروریات زندگی کی تخلیق میں مزید سہولتیں پیدا ہور ہی ہیں۔ موسمی اور فضائی ترکیبوں کے اسباب میں خود بصیرتی حاصل ہونے کے بعد فضا کو کنٹرول میں لانے کے امکانات روشن ہو چکے ہیں۔ فضاؤں کو کیمیاوی عوامل اور بیکٹریل عوامل کے ذریعے قابو میں لانے یا انکی تجدید کرنے کے عمل کو صنعتی اور کمرشل بنانے کی بنیادیں بھی دستیاب ہو چکی ہیں۔ آبادیوں، صنعتوں اور فضاؤں کو خلاؤں اور سیاروں تک پھیلانے کے لئے آبادیوں صنعتوں اور فضاؤں کا بیج زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ صنعت اور آبادی کو آلودگی قرار دینا سائنس اور ارتقاء کے قوانین کی توہین ہے۔ خلاؤں کی تسخیر کے لئے کتنی ٹیکنالوجی، کتنی صنعت، کتنی تجارت اور کتنے مالیئے کی ضروت ہے اور اس ضروت کی تکمیل کے لیے کتنی آبادی کی ضرورت ہے؟ ان کو حساب وشمار میں لانا ناممکن ہے۔ فضاؤں کو خلاؤں میں قائم کیا جائے گا اور اس ضرورت کی تکمیل کے لئے کتنی آبادی کی ضرورت ہے؟ان کو حساب وشمار میں لانا ناممکن ہے۔ فضاؤں کو خلاؤں میں قائم کیا جائے گا تو انسان کو اوزون کی نئی چھتریوں کے لئے نئے اُفق درکار ہوں گے۔ اوزون کی موجودہ چھتری کو مزید اوپر لے جانے کی ضرورت ہو گی۔ پھر یہبھی ممکن ہے کہ ارتقاء کی نئی قوتیں مثلاً ٹمپریچر کا اضافہ، گیسز کا دباؤ اوزون کی موجودہ چھتری کو مزید اوپر کھلنے کے لئے دباؤ پیدا کر رہی ہوں۔ پھر ضرورت کے دباؤ سے یہ بھی ممکن ہے کہ آلودگی کا موجودہ ماحول سائنسی ٹیکنالوجی کا رُخ فضائی تحقیق اور فضائی کنٹرول کی طرف موڑ کر دریافتوں کا نیا سلسلہ شروع کر دے۔ آلودگی کے زہریلے آکسائیڈ کو ری سائیکلنگ کے ذریعے دوبار ہ حیات افروز مصرف کے قابل بنا دے۔ اب توسنتھیٹک ٹیکنالوجی ارتقاء کی اُس سطح پر پہنچ چکی ہے کہ ردی کاغذوں اور پلاسٹک کو قیمتی لکڑی میں تبدیل کر سکتی ہے۔ گندگی کے ڈھیروں کو جنیٹک انجینئرنگ و بیکٹریا کی مدد سے پیٹرولیم میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ نئے نئے مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں مگر سائنس کے پیدا کردہ مسائل خود سائنس ہی کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی، صنعت اور آبادی کو منجمد کر کے مسائل کو منجمد کر دینا مسائل کاحل نہیں ہے۔ مسائل کا حل زیادہ سائنس پیدا کرنے سے ممکن ہے۔ زیادہ سائنس کے لئے زیادہ آبادی درکار ہے؟اگر آبادی میں مسلسل اضافہ نہ ہوتا رہتا تو تاریخ کے کسی عہد کا (اسٹیٹس کو) کبھی نہ ٹوٹتا۔ یہ آبادی کا اضافہ ہی ہے جو ’’اسٹیٹس کو‘‘ کی فرسودہ قوتوں کومسمار کر کے ارتقاء کے نئے طاقتور سماجی ڈھانچوں کی تخلیق کرتا ہے۔ آبادی کا اضافہ ہمیشہ تاریخ کی بہت بڑی انقلابی قوت رہا ہے۔ سائنس نہ صرف بیماریوں کے خلاف آبادی کے تحفظ کا سامان فراہم کرتی ہے بلکہ وسائلِ حیات کی تخلیق کو فروغ دیکر آبادی کے تحفظ کا سامان فراہم کرتی ہے۔ تحفظِ ماحولیات کے نام پر، آبادی کے فروغ پر قدغن لگانا

Reader Comments (0)

No comments yet. Be the first to review!

Leave a Comment

| |