Content not available in English.
اور ٹیکنالوجیکل اپروچ کے ذریعے صنعتی تخلیق اور پیداواری عمل کے ذریعے مادی تنظیم اور نتیجتاً سماجی تنظیم کا ’’پراسس‘‘ زندگی کی تمام سہولتوں سے محرومی اور اپنی محنت کی اسیری سمیت جاری وساری رکھا۔ عالمی سماجی تشکیل کے بعد عالمی سامراج کی تشکیل اور ملٹی نیشنلز کی تنظیم ہوئی۔ ملٹی نیشنلز نے اپنی بے پناہ ہوس زراندوزی کی تکمیل کے لیے ضرورتوں کو اشتہاری اور اپنی ہوس کی شہوت انگیزی کو ضرورتوں کا نام دیکر قدروں کے طور پر متعارف کروایا۔ بے شعور انسانی گروہوں کے تاریک ذہنوں میں حرص و ہوس کی چکا چوند پیدا کر کے انہیں تمام اعلٰی اخلاقی روایات سے محروم کر کے اشتہاء اور احتیاج کا چلتا پھرتا اشتہار بنا دیا۔ صنعتی پیداواری عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سائنسی سماجی شعور کی ترویج کو روکنے کے لیے مذہبی شدت پسندی کو ہوا دی گئی۔ مذاہب کے مابین تاریخی منافرت کے مواد کی پبلشنگ ہوئی۔ مصنوعات کی تشہیر کے لئے جنسی اشتہاء پیدا کرنے والے اشتہاروں کی بھرمار کی گئی۔ نوجواں اور معصوم بچوں کو شرم وحیا، تہذیب و اخلاق کی تمام حسن وخوبی سے محروم کرنے کے لئے بیہودہ لٹریچر اور اخلاق باختہ موویز کی دنیا کے تمام بازاروں اور مارکیٹوں میں بھر مار کر دی گئی۔ سامراجی دنیا اور ملٹی نیشنلز نے ہوسِ زر اندوزی میں ہوس اور سفلگی کی پست تہوں اور گٹروں میں اُتر کر ننگی بے شرمی کے ہر مظاہرے کی انتہا کر دی۔ تخریب کاری کا کوئی ایسا ہتھیار نہ تھا جسے انسانی اخلاق اور تہذیب کے حسن کو تباہ کرنے کے لئے استعمال نہ کیا گیا ہو۔ دنیا میں امن اور سکون کے ہر گہوارے پر تخریب و تباہی کے بادل چھا گئے۔ امن کے دعویداروں نے دنیا کا امن و سکون غارت کر دیا۔ صنعتی عمل کے نتیجے میں پیدا ہونیوالی دولت اور معاشی ترقی کا دھارا دنیا بھر میں پھیلے ہوئے چند ہزار بے رحم اور سفاک انسانیت دشمن ملٹی نیشنلز درندوں، عالمی مالیتی و حکومتی اداروں، جاسوی ایجنسیوں اور حساس اداروں کے سربراہوں، دفاعی اور ایٹمی توانائی کی اسمگلنگ کے مذموم کاروبار میں ملوث انسان نما بھیڑیوں کے بینک اکاؤنٹس کی طرف بہہ نکلا۔
Reader Comments (0)
No comments yet. Be the first to review!
Leave a Comment