FitratAurMahool (Page 2)

Read in:
پیش لفظ اس دنیامیں رہنے کے لیے آپ کے پاس اب محض ایک ہزار سال باقی ہیں پھر اس کرہ ارض پر آپ کا کوئی حق نہیں رہے گا اگرچہ ہزار سال بعد بھی سورج اِسی طرح طلوع ہو گا، شامیں بھی آج جیسی ہوں گی، چودہویں کا چاند بھی یونہی ٹھنڈی کرنیں بکھیرے گا، سارے موسم بھی آج کی طرح کرۂ ارض پر موجود ہوں گے، مگر ممکن ہے کا انداز کچھ مختلف ہو لیکن اگر کچھ نہیں ہو گا تو صرف انسانی مخلوق نہیں ہو گی، یہ کسی نجومی کی پیشن گوئیاں نہیں ہیں بلکہ دنیا کے عظیلم سائنسدان اور تصوراتی سائنس کے آسمان کے روشن ستارے سٹیفن ہاکنگ کی پیشن گوئی ہے ساری دنیا جس کی علمی بصیرت اور سائنیس خدامات کا اعتراف کرتی ہے۔ پچھلے عرصے میں ایک عالمی شہرت یافتہ ماہر طبعیات نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں لیکچر کے دوران خبراد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ امکان بہت کم ہے کہ اگلا ملینیم یعنی 3001ء انسان دیکھ پائے گا۔ انہوں نے مشورہ دیا تھاکہ انسان کو چاہیے کہ زمین پر فناکے گھاٹ اترنے سے پہلے ہی زمین سے باہر کہیں اور اپنا ٹھکانہ بنا لے کیونکہ یہ مٹی اسے جینے نہیں دے گی انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ ہم اس کرۂ ارض کو چھوڑتے بغیر زندہ رہ سکیں گے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم خلائی پروگراموں پر زیادہ توجہ مرکوز کریں اور جلد از جلد کوئی ایسا سیارہ ڈھونڈیں جو انسان کے رہنے کے قابل ہو۔ دنیا کی تباہی کے متعلق مختلف سائنسی نظریات موجود ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سورج آہستہ آہستہ اپنی توانائی جلا رہا ہے آخر کار یہ نظام شمسی ختم ہو جائے گا لیکن اس میں ابھی تقریباً پانچ ارب سال باقی ہیں جب کہ سٹیفن ہاکنگ کا کہنا ہے کہ اس عالمِ رنگ و بو میں انسان کے قیام کا عرصہ سمٹ کر صرف ایک ہزار سال باقی رہ گیا ہے۔ آج کل جس چیز کا بہت شور ہے وہ ہے کرۂ ارض کا بہت گرم ہونا یا گلوبل وارمنگ جس کے نتیجے میں برف پگھل رہی ہے، سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے، موسم شدید تر ہوتے جارہے ہیں، قدرتی سانحات بڑھتے جا رہے ہیں، گلوبل وارمنگ کا زیادہ تر ذمہ دار انسان خود ہہے۔ ماحول کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت زندگی کومشکل تر بنا رہا ہے۔ مگر یہ امکان بہت کم ہے کہ صرف ایک ہزار سال انسان کو نگل جائے گا۔ مشہور زمانہ سائنسدان ہاکنگ نے اپنے لیکچر میں بتایا کہ یہ انسان کے اپنے ہی اعمال ہیں کہ زمین اس کا بوجھ اٹھانے اور اسے اپنے دامن میں پناہ دینے سے انکار کر دے گی۔ انہیں خدشہ ہے کہ ایک بڑا حادثہ کسی ایسی تباہی کا سبب بن سکتا ہے جس سے زمین پر موجود سب کچھ تباہ و برباد ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تباہی تین طریقوں سے آ سکتی ہے جوہری جنگ سے، لیبارٹریوں میں بنائے گئے وائرس سے اور کمپیوٹر کے نظام میں فروغ پاتی ہوئی مصنوعی ذہانت سے، جس کا استعمال مسلسل بڑھ رہاہے۔ جوہری جنگ انسانی خود کار نظام کی غلطی یا ایک شخص کے غلط فیصلے سے شروع ہو سکتی ہے۔ لیکن پھر اس کا اختتام سب کچھ تباہ و برباد ہونے کے بعد ہی ہو سکتی ہے۔ وائرس اور جینیات پر سائنسی تحقیق کے نتیجے میں کوئی ایسا وائرس جنم لے سکتا ہے جو نہایت ہلاکت خیز اور لا علاج ہو۔ اگر ایسا وائرس کسی وجہ سے لیبارٹری سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر آگے کی کہانی انتہائی خوفناک ہے۔ کمپیوٹر کے سائنسدان کچھ عرصے سے مصنوعی ذہانت پر پیش قدمی کر رہے ہیں۔ پہلے جن چیزوں کو انسان کنٹرول کرتا تھا اب ان کا کنٹرول کمپیوٹر کے ہاتھوں میں جارہا ہے۔ جس تیز رفتاری سے مصنوعی ذہانت ترقی پا رہی ہے اس کے پیش نظر یہ بہت ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں یہ انسان کی گرفت سے آزاد ہو کر مصنوعی ذہانت کی گرفت میں چلا جائے۔ پھر اس کے آگے کا سفر تباہی کی طرف جاتا ہے۔ سٹیفن ہاکنگ نے انسان کو مشورہ دیا کہ اگر وہ اپنی نسل کی بقاء چاہتا ہے تو اپنی نظریں اوپر ستاروں پر جمائے اپنے پاؤں پر نہیں اور زمین سے جڑے رہنے کا خیال اپنے ذہن سے جھٹک دے کیونکہ شاید ایک ہزار سال بعد کرۂ ارض اسے قبول نہ کرے۔ یہ تحیر انگیز اور چشم کشا انتباہ اس سائنسدان کی طر ف سے آیا جس نے تصوراتی سائنس کے ادنیٰ سے گوشے سے آگہی حاصل کی ہے۔ جس نے قرآن حکیم کے ”پہاڑوں کو وئی کے گالوں کی مانند اڑا دینے والے، اور آہنی پتھروں کے سینے چیرکر ان کی مخروطی اُٹھانوں سے موتیوں جیسے پانی کی سبیلیں بہا دینے والے، اور سورج کو روشنیوں کی چکا چوند سے محرومی کے صدمے سے دوچار کر دینے والے، اور ستاروں اور سیاروں کو ریزہ ریزہ کر دینے والے، اور آسمانوں کی کھال اُتار کر ان کی کثافتوں کے بوجھ ہٹا کران کو لطیف ترین توانائیوں میں تبدیل کر دینے والے، اور کرۂ ارض کی وستعوں اور

Reader Comments (0)

No comments yet. Be the first to review!

Leave a Comment

| |