Content not available in English.
موسم شدید تر ہوتے جارہے ہیں، قدرتی سانحات بڑھتے جا رہے ہیں، گلوبل وارمنگ کا زیادہ تر ذمہ دار انسان خود ہے۔ ماحول کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت زندگی کومشکل تر بنا رہا ہے۔ مگر یہ امکان بہت کم ہے کہ صرف ایک ہزار سال انسان کو نگل جائے گا۔ مشہور زمانہ سائنسدان ہاکنگ نے اپنے لیکچر میں بتایا کہ یہ انسان کے اپنے ہی اعمال ہیں کہ زمین اس کا بوجھ اٹھانے اور اسے اپنے دامن میں پناہ دینے سے انکار کر دے گی۔ انہیں خدشہ ہے کہ ایک بڑا حادثہ کسی ایسی تباہی کا سبب بن سکتا ہے جس سے زمین پر موجود سب کچھ تباہ و برباد ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تباہی تین طریقوں سے آ سکتی ہے جوہری جنگ سے، لیبارٹریوں میں بنائے گئے وائرس سے اور کمپیوٹر کے نظام میں فروغ پاتی ہوئی مصنوعی ذہانت سے، جس کا استعمال مسلسل بڑھ رہاہے۔ جوہری جنگ انسانی خود کار نظام کی غلطی یا ایک شخص کے غلط فیصلے سے شروع ہو سکتی ہے۔ لیکن پھر اس کا اختتام سب کچھ تباہ و برباد ہونے کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ وائرس اور جینیات پر سائنسی تحقیق کے نتیجے میں کوئی ایسا وائرس جنم لے سکتا ہے جو نہایت ہلاکت خیز اور لا علاج ہو۔ اگر ایسا وائرس کسی وجہ سے لیبارٹری سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر آگے کی کہانی انتہائی خوفناک ہے۔ کمپیوٹر کے سائنسدان کچھ عرصے سے مصنوعی ذہانت پر پیش قدمی کر رہے ہیں۔ پہلے جن چیزوں کو انسان کنٹرول کرتا تھا اب ان کا کنٹرول کمپیوٹر کے ہاتھوں میں جارہا ہے۔ جس تیز رفتاری سے مصنوعی ذہانت ترقی پا رہی ہے اس کے پیش نظر یہ بہت ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں یہ انسان کی گرفت سے آزاد ہو کر مصنوعی ذہانت کی گرفت میں چلا جائے۔ پھر اس کے آگے کا سفر تباہی کی طرف جاتا ہے۔ سٹیفن ہاکنگ نے انسان کو مشورہ دیا کہ اگر وہ اپنی نسل کی بقاء چاہتا ہے تو اپنی نظریں اوپر ستاروں پر جمائے اپنے پاؤں پر نہیں اور زمین سے جڑے رہنے کا خیال اپنے ذہن سے جھٹک دے کیونکہ شاید ایک ہزار سال بعد کرئہ ارض اسے قبول نہ کرے۔ یہ تحیر انگیز اور چشم کشا انتباہ اس سائنسدان کی طر ف سے آیا جس
Reader Comments (0)
No comments yet. Be the first to review!
Leave a Comment