FitratAurMahool (Page 3)

Read in:
گہرائیوں میں مستوراس کی قوتوں اور توانائیوں سے اس کو محروم کر کے اس اس کی کشش ثقل اس سے چھین لینے والے، زلزلہ بردوش انکشافات کی ابھی تک درکہی نہیں پائی۔“ قرآن حکیم سٹیفن ہاکنگ کے علمی اندیشوں کو یقینی اور واقعاتی حقائق کے انکشافات میں تبدیل کر دینے والی بے مثل کتاب ہے۔ دستور فطرت ہے میں لرزہ خیز انتباہ ظلم پر وردہ قوانین کی ظلمتوں میں ڈوبے ہوئے اور سفاک درندہ صفت انسانیت دشمن سامراجی درندوں کی اطاعت کی لعنت میں گرفتار بے شعور، بے حس اور بے ضمیر انسان نما چوپائیوں کے لیے نہیں بلکہ منشاء رب العالمین کی طرف بے تابی کے ساتھ لپک کر آنے والے زندہ ضمیر اور حریت پسند باشعورانسانوں کے لیے ہوتے ہیں۔ جو ظالم و جابر ستم پیشہ انسانی گروہوں کی کسی صورت حمایت نہیں کرتے۔ اور رب العالمین کی معصیت میں نا فرمانی کے گناہ کی دلدل میں لتھڑے ہوئے نہیں ہوتے۔ قرآن مبین کی سورۂ حج کی آیات بیینات کا آغاز انسانی سماعتوں پر لرزہ طاری کر دینے والی اس انتباہ اور الٹی میٹم سے ہوتا ہے ”اسے تہذیب و تمدن کی ارتقائی مرحلوں سے گزر کر اس عہد کے تمدنی اور تہذیبی قوانین اور عروج و زوال کے فطری قوانین کی تابعداری اور برگشتگی کے لازمی نتائج سے آگاہ لوگو“ کرۂ ارض پر زندگی کے امکانات پیدا کرنے والی، اور زندگی کی بقا اور توسیع کے امکانات کو یقینی بنانے والی، اور حیات کی ہر نوع کی ضرورتوں اور حاجتوں کو پورا کرنے والی،قدرت کی قوت ناظمہ کی عظمت اور تقدیش اور قہر و غضب کا احساس کرو کہ تمھاری زندگی کی بنیاد بننے والے سیارے یعنی کرۂ ارضی پر اربوں سال سے جاری و ساری زندگی کے امکانات عنقریب ختم ہونے والے ہیں۔ اور ہر سیارے کا مقدر بننے والی، اور اس پر زندگی کے نظام کی تکمیل کر دینے والی ”قیامت“ کرۂ ارضی کا مقدر بننے والی ہے اور تم اگر اپنے احساس و ضمیر کی گہرائیوں میں اتر کر سوچو کرۂ ارضی پر بقا اور توسیع کے امکانات کے خاتمے کی سوچ ہی تمہیں لرزا کر رکھدے۔ تمارا آفاقی اور انفسی حقائق کی تفتیش و تحقیق کے نتیجے میں پیدا ہونے والا کائناتی شعور تمہیں زندگی کے مستقل قیام کے لئے عارضی انہدام اور کرۂ ارضی پر زندگی کے بساط لپیٹے جانے کی قیامت خیز گھڑیوں کی واقعاتی حقیقت سے تمہیں آگاہ اور سرشار کردے۔ کرہ ارضی کے وسعتوں اور تنگنائیوں او سمندروں کی بے انت گہرائیوں میں فطرت کا عدل و توازن تخریب کار انسانی گروہوں کے ہاتھوں تباہ و برباد ہو گیا ہے۔ درندگی اور سفاکی کا مسلسل مظاہرہ کرتے کرتے باؤلا ہو جانے والا عالمی سامراج اور اس کی درندگی کے سہولت کار پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے بے ضمیر حکمران اور انسانیت کے خون کے پیاسے مذہبی درندے، ملٹی نیشنل کمپنیاں اور رب العالمین کی معصوم اور بے کس مخلوق کی بوٹیاں نوچنے والی خونخوار خفیہ ایجنسیاں اور ہوس و زراندوزی کی کمینگی میں مبتلا ڈرگ مافیا اور ہلاکت خیز اسلحے کی سمگلنگ میں سفاک ایجنٹ، یہ ہیں رب العالمین کے لئے اور اس کی جلالت مآب قدرت کے لئے ناقابل برداشت ظلم و سفاکی کی غلاظت میں لتھڑے ہوئے ذلیل انسانیت دشمن گروہ جنہوں نے صفحہ زمین پر انسانیت کا جینا حرام اور انسانی ماحول کو تباہ برباد کر رکھا ہے۔ قرآن حکیم صدیوں پہلے اس ہولناک منظر کی نقشہ کشی ان آیات بیینات میں تفصیلاً کر چکاہے۔ کرۂ ارض کی وستعوں، اور سمندر کی گہرائیوں میں انسان نما درندوں کے ہاتھوں انسانی نسلوں اور دیگر انواع حیات کا امن و سکون کا فطری ماحول غارت ہو کر رہ گیاہ ے۔ قوانین فطرت اور دست قدرت ان سفاک اور تخریب کاروں قوتوں کا پنجہء استبداد مروڑ کر رہے گا۔ تا کہ وہ اپنی ستم رانیوں کے قابل ہی نہ رہیں۔ اور میرے رسولﷺ آپ اپنے گردو پیش کے علاقوں میں بسنے والے تخریب کار فسادی گروہوں کو انتباہ کر دیں کہ صحرائے عرف اور اس کے قرب جوار میں گھمو پھر کر دیکھو! کہ کس طرح تم سے پہلے صفحہ زمین پر بسنے والی تہذیبوں اور فساد برپا کر نے والے تمدنوں کوتخریب و تباہی کی روش اپنانے ک ی وجہ سے ہم نے صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا۔ ان طاقتور تہذیبوں نے رب العالمین کے بالادست اور لاشریک اتھارٹی کے مقابلے میں جھوٹی اور باطل اتھارٹیوں کو اپنا خدا بنا لیا تھا۔ اور ان کے تخریب و فساد کے پراگروموں کی تعمیل و تابعداری کو اپنا شیوہ اور معمول بنا لیا تھا۔ قوانین فطرت کی خلاف ورزی کا بدترین انجام کیا ہوتا ہے؟ تم ان اُجڑی ہوئی بستیوں کے کھنڈرات اور ہلاک شدہ تمدنوں کے آثار کے مشاہدے کے بعد اندازہ کرنا۔ اور میرے رسولﷺ آپ اور آپﷺ کی دعوت برحق پر ایمان ل انے والے اور پھر خلوص عمل کے ساتھ قوانین فطرت کی پابندی اور پاسداری کو اپنا

Reader Comments (0)

No comments yet. Be the first to review!

Leave a Comment

| |