Content not available in English.
اضافیت کا حیرت انگیز قانون:
اضافیت کا حیرت انگیز قانون صرف ریاضی، کیمسٹری، فزکس، بیالوجی تک محدود قانون نہیں ہے بلکہ وسیع ترین کائنات میں تمام شعبہ ہائے حیات پر بے لاگ اور یکساں طور پر لاگو اور نافذ العمل قانون ہے۔ اِستقلال اور جمود کا فطرت میں کوئی وجود نہیں ہے بلکہ ہر شے تسلسل کے ساتھ ہر آن اپنی شکل، زاویہ، جگہ، ماہیت اور کیفیت بدل رہی ہے اِسی بناء پر اشیاء کا تشخص شناخت اور تعریف ہر لمحہ تبدیل ہورہی ہے۔ بدلتی ہوئی ماہیتوں، کمیتوں، کیفیتوں، اشکال اور زاویوں کے قانون کو اضافیت کا قانون کہا جاتا ہے۔ جو ہر مادی جو ہر ذرے اور توانائی کے ہر بار اور روشنی کی ہر لہر پر نافذ العمل ہے۔ اور کوئی زمانی لمحہ اور مکانی حقیقت یا کیفیت و حالت اس بو قلمونی کی سرایت سے آزاد نہیںہے۔ ماحول بھی ایک اضافی حقیقت ہے۔ اس کی حقیقت بھی غیر حقیقی نسبتی اور اضافی ہے۔ اس کا اینگل اور زاویہ بدل جانے سے اس کی حقیقت اور تعریف بدل جاتی ہے۔ مادے اور توانائی کے پوشیدہ اسرار کی نقاب کشائی کی لاکھوں سالہ انسانی جدوجہد و جستجو نے جہاں انسانی مغز کی ساخت و حجم بڑھا کر اس کی دماغی فعالیت اور ذہنی صلاحیت کو مسلسل بڑھایا ہے۔ اس کی ذہنیتذہانت اور ذہنی صلاحیت کی سرحدوں کو توسیع دی ہے۔ اس کے امکان اور اختیار میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔ خلائی اور ذہنی مناظر کی بنیادی حقیقت نے اس کی نظر منظر بینی منظر نگاری منظر کشی یا انگریزی زبان کے(View,Visualization,Waves,Vision)ویو، ویولائزیشن، ویوز، وژن اور نظاروں کی بنیادڈالی ہے۔ جس طرح خلاء کی بنیادی حقیقت نے اس کے خیال، تخیل اور تصور کی بنیادیں وضع کی ہیں۔ اس کا وِژن بڑھنے سے اس کے ہاں لفظ ماحول کی تعریف بھی مسلسل بڑھتی اور وسیع ہوتی گئی۔
انسانی ذہن اور کائنات:
مادے اور توانائی کی قدرتی حالت تبدیل کرنے کی کوششوں کے لاکھوں سالہ دورانیے میں فطرت صلے کے طور پر انسان کی ذہنی صلاحیت بڑھاتی گئی۔ ہر لمحہ بے پناہ وسیع کائنات انسانی ذہن کی قربت کی بے تابانہ خواہشوں سے سرشار ہو کر انسانی ذہن میں سمٹتی گئی۔ یہاں تک کہ اس تسلسل کا وہ لمحہ بھی آیا جب کائنات مکمل سمٹ کر انسانی ذہن کا حصہ بن گئی یا انسانی ذہن نے پھیل کر کائنات کی وسعتوں کو سمیٹ لیا۔ ٹمپریچر کی شدت انسان کے ہاں گرمی یا سردی کا ماحول بن گئی۔ درپیش ناپسندیدہ صورت حال کی ناموافقت یا عدم مطابقت انسان کے لئے خوف کا باعث بن گئی اور اسی صورتحال کی بے پناہ شدت انسان کے لئے گھٹن کا ماحول بن گئی۔ سناٹا انسان کیلئے آسیب کا ماحول بن گیا۔ سبزہ اور ہریالی انسان کے لئے جنت کا ماحول بن جاتے ہیں۔ اندھیرا انسان کے لئے گھٹن کا ماحول پیدا کرنے کا باعث بن گیا۔ اور روشنی اس کے سارے ماحول کو روشن کر گئی۔ گھریلو اور مجلسی ماحول اور اہل خانہ اور اہل مجلس کی طر ف سے تابعداری اور تسلیم و رضا کو انسان نے خوشگوار ماحول کا نام دیدیا۔ حوادثات اور صدمات اور بچھڑے ہوئے لوگوں کی یاد نے انسان کے ماحول کو سوگوار بنا دیا۔ بد اخلاقی، توہین آمیزی اور معاشرے میں عدم رواداری کا غیر جمہوری ماحول، جاہلانہ ماحول، فحاشی اور عریانی کا ماحول، جلسے جلوسوں کا ماحول، ہڑتالوں کا ماحول، گندگی اور غلاظت کا ماحول، بدبو اور تعفن کا ماحول، شوروغل کا ماحول، اجنبیت کا ماحول، تنہائی کا ماحول، صفائی کا ماحول، نفاست اور طہارت کا ماحول، تعلیمی ماحول، صحت افزا ماحول، شہروں کا تنگ ماحول، دیہاتوں کا کھلا ماحول، صحرائی علاقوں کا وسیع ماحول، یونیورسٹیوں کا آزادانہ ماحول، تھانوں، کچہریوں اور جیلوں کا مجرمانہ ماحول، پوش علاقوں کا عیاشی کا ماحول، بازاروں میں بھیڑ کا ماحول، سرکاری محکموں اور دفاتر میں رشوت وبد عنوانی، سفارش اور اقرباء پروری کا ماحول، اڈوں اور ریستورانوں میں رش کا ماحول، ٹریفک میں بد نظمی کا ماحول، مساجد میں شور کا ماحول، ریلوے اسٹیشنوں پرسیٹیوں کا ماحول، ان مثالوں کے ذریعے ماحول کی تشریح کی جاتی ہے۔
،
Reader Comments (0)
No comments yet. Be the first to review!
Leave a Comment