Content not available in English.
خیال کی وسعت اور ہمہ گیری:
انسانی ذہن کائنات کی لطیف ترین گہرائیوں سے اپنے خیال کے ذریعے جو کچھ وصول کرتا ہے ہزاروں سال اُن اطلاعات اور پیغامات کی چھان پھٹک کرتا ہے جو خیال اپنے پروں کے ساتھ چپکا کر لانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ کیونکہ خیال تو محض انسانی ذہن کا رپورٹنگ کا شعبہ ہے۔
زبان اور بیان کی ایجاد:
قدیم انسانی نسلوں نے اپنی انہی خبروں کے نظام کیلئے جب زبان ایجاد کی تو یہ انکا بہت ہی بڑا اور حیرت انگیز کارنامہ تھا۔ کیونکہ بیان کی نعمت سے سرفراز ہو کر انسان اپنے مافی الضمیر کی وضاحت کے قابل ہوا تھا۔ یہ اپنے تاثرات، مشاہدات وتجربات کی بہت ہی کمتر مقدار میں بیان کی صلاحیت حاصل کر سکا۔ مگر مشاہدات اور تجربات کا حجم جوں جوں بڑھتا چلا گیا وہ احاطہ بیان سے باہر ہوتا گیا۔ تخلیقات اور پیداوار کے نئے تازے اور بہت ہی گراں قدر انبار نے بیان اور وضاحت کی صلاحیتوں کے ناکافی پن کو انسانی نسلوں پر آہستہ آہستہ عیاں کرنا شروع کر دیا تھا۔ ضرورت کی بہتات، پیداوار کی بہتات اور تبادلےکی بہتات نے اُسکو عیاں اور واضح کر دیا۔
تحریر کی ایجاد:
تب دیگر انواع حیات سے انسان کے رابطے کا آغاز ہوا اور انسانی نسلوں نے اپنی موجودہ ضرورتوں کے تازہ فرمان کے تحت تحریر کا سلیقہ ایجاد کیا۔
آگ کی ایجاد:
آگ کے راز کی دریافت اور تحریر کے راز کی دریافت بیشک قدیم انسانی مخلوق کا بے پناہ گراں قدر ناقابل فراموش کارنامہ ہے جو موجودہ انسانی نسلوں کے سینکڑوں سائنسی ایجادی کارناموں سے بڑھ کر ہے جن کی وقعت و اہمیت کو تاریخ کی قوتِ محرکہ انسانی ذہانت کے بیش بہا تخلیقی کارناموں کے بیش بہا اضافوں کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔ ابھی چند لاکھ سال پہلے کی بات ہے انسانی نسلوں کو بولنا اور لکھناتو کجاان کے سوچنے اور سمجھنے کی حس ابھی بیدار نہ ہوئی تھی۔ انسانی مغز کی ساخت بھی اس قدر بہتر نہ ہوئی تھی۔ بالقوۃ صلاحیتیں تو انسانی مغز میں موجود تھیں مگر بِالفعل ان کافنکشن بالکل نا پید تھا۔ پھر مادی تنظیم کے عمل کے تسلسل اور تخلیق اور پیداوار کے عمل کے ساتھ انسانی نسلوںکی وابستگی نے فطرت کی مہربانیوں کو اس پر نچھاور کرنا شروع کر دیا۔ اس کی دماغی صلاحیت بہت بڑھ گئی۔ جس سے تخلیقی صلاحیتوں میں تیزی اور تخلیقی معیار میں بہتری آگئی۔ آج سے پچاس ہزار سال پہلے کا انسان فطرت کی نگرانی سے بے نیاز نہیں ہوا تھا۔ حالانکہ جبِلت کی بیڑیوں سے اکثر انسانی نسلیں دو لاکھ سال پہلے آزاد ہو چکی تھیں۔ جُوں جُوں اُس کے مغز اور دماغ کی فعالیت بڑھتی گئی اُس کے ہاتھ کُھلتے گئے۔ مادی تنظیم کے ساتھ اُسکی وابستگی نے اور مادے کی قدرتی ساخت کے ساتھ جڑت اور توجہ نے اُنکی نیچرل ساخت میں تبدیلی کی صلاحیت اس کے اندر پیدا کر دی۔ دماغ اور ہاتھوں کے ذریعے اشیاء کی قدرتی حالت میں تبدیلی لانے کی صلاحیت نے آہستہ آہستہ بولنے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت بتدریج اور باالترتیب پید ا کی۔ ہزاروں سال پہلے اشیاء کے اُس کے ہاتھوں سے بنے ہوئے اور پیدا کئے ہوئے ڈھیروں کے ضیاع کے احساس نے اُسے لکھنے کی طرف متوجہ کیا۔ ہزاروں سال کی جستجو ئے بیکراں کے بعد اُسے لکھنا آ گیا۔ دنیا میں بولی اور لکھی جانے والی ہزاروں زبانیں اور بولیاں دراصل دنیا کے مختلف آباد خطوں اور براعظموں میں بسنے والے انسانوں میں رائج مختلف طریقہ ہائے پیداوار کی وجہ سے مختلف ہیں۔ زبان اور تحریر کے ہزاروں انداز دراصل تخلیق پیداوار کے طریقوں کے درمیان اختلاف کی وجہ سیپیدا ہوئے۔
اس طرح دنیا کے مختلف علاقوں اور ممالک میں رائج اندازِ تحریر بھی حروفِ تہجی اور اَلفا بیٹک(Alphabatic) کے مختلف انداز بھی دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والی اقوام میں رائج مختلف طریقہ ہائے پیداوار اور طریقہ ہائے ایکسچینج کی وجہ سے ہیں۔ انسان کی حیات کی انواع مختلفہ سے آگہی اور شناسائی مادی تنظیم کے مختلف دورانیوں میں ہوئی۔ جب سے انسان اپنی احتیاج سے بندھااور اپنی ضرورتوںسے وابستہ ہوا، جس طرح ضرورتیں بڑھتی گئیں انسان کی احتیاج بھی بڑھتی گئی۔ احتیاج ہی نے انسان کو اس طرف متوجہ کیا۔ یعنی زندگی کی دوسری انواع کی طرف متوجہ کیا۔ دوسری انواع کی طرف توجہ نے اس کے علم اور تجربے کو بڑھایا۔ اُس نے اپنا علم دوسری اور آئندہ نسلوں کی طرف منتقل کرنا شروع کیا۔ اپنے مشاہدات اور تجربات کے ماحصل سے اپنی اگلی نسلوں کو آگاہ کرناشروع کر دیا۔ اس طرح انسانی زندگی میں ھما ھمی آگئی اور سوچ وفکر کی سطح ہر لحظہ بلند ہوتی گئی۔ جنگلوں میں سکونت کے دورانیے نے انسانی نسلوں کو اپنے گردو پیش میں موجود سرسراتی، رینگتی، گنگناتی زندگی کی
Reader Comments (0)
No comments yet. Be the first to review!
Leave a Comment