Content not available in English.
ایمان کی قرآنی تعریف:
اپنی احتیاج اور ضرورتوں سے بے نیاز ہونے کے باوجود دوسروں کی احتیاج ختم کرنے اور کسی صلے سے بے نیاز ہو کر دوسروں کی ضروتیں پوری کرنا رب العالمین کا اخلاق ہے اور اس عظیم الشان اخلاق کو قرآن حکیم میں ایمان کہا جاتا ہے اور اللہ تمام انبیا و مرسلین کو یہی اخلاق دے کر دنیا میں مبعوث کرتا رہاہے۔
ایمان کی کلیدی حیثیت:
قرآن مبین نے اخلاقیات کے چارٹر میں اولین حیثیت ایمان کو دی ہے۔ قرآن حکیم نے اپنی برتر حقیقت و صداقت کے اعلان کے بعد قوانین فطرت کی انسانوں کے نام وصیت میں سب سے پہلے ایمان پر زور دیا ہے۔ اس کی ترتیب یوں ہے (الذین یومنون باالغیب ویقیمون الصلوۃ و مما رزقنا ھم ینفِقون، سورۃ البقرۃ، آیت نمبر۔۳) یعنی نوع انسانی میں میرے محبوب مقرب اور پسندیدہ انسان اور انسان کہلانے کے صحیح حقدار وہی بندے ہیں جو میرا پسندیدہ اخلاق اختیار کرتے ہیں۔(یومنون) اور اپنی حاجتوں اور ضرورتوں کو بالائے طاق رکھ کر میرے بے کس اور محتاج بندوں کی بے کسی اور احتیاج ختم کرنے کی مخلصانہ جدو جہد کرتے ہیں۔ (یومنون) اعلیٰ صنعتی اور تخلیقی ذہانت استعمال کر کے اپنے تخلیقی حسن کے ذریعے اخلاقی معیار کو بڑھائے جاتے ہیں۔ (یومنون) خود آزاد ہوتے ہوئے دوسروں کی غلامی کے خاتمے کی جدو جہد کرتے ہیں۔ (یومنون) کرئہ ارض کے بطن میں پوشیدہ خام مادوں اور وسائل کو قابل استعمال، قابل قدر اور قابل عمل بنا کر انسانی اور سماجی اثاثوں کی تعداد میں ہر دم اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ (یومنون باالغیب) کرئہ ارض کے اوزون خلاء اور کرئہ ہوائی میں اور دیگر نظام شمسی کے سیاروں میں موجود وسائل توانائی کوانسانی زندگی کیلئے اور وسائل ترقی میں اضافے کیلئے ہر دم منظّم، معلوم اور وجود میں لانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ (یومنون باالغیب) انسانی دانش میں اضافے کیلئے مادیتنظیم کے ذریعے وسائل زندگی کی تلاش و جستجو کے ذریعے، انسانی زندگی کیلئے سہولتوں کی بہم رسانی کی کوششوں کے ذریعے،نئے سائنسی انکشافات اور دریافتوں کے ذریعے، نئے سائنسی علوم کی جہتوں کی تلاش کے ذریعے، نئی ٹیکنالوجیز کے نظام کا اجراء کر کے مہارتوں کی تخلیق کے ذریعے، انسانی علم و دانش، فلسفہ وادب،صنعت و حرفت، ہنر مندی، آرٹس اور فنون کے انسانی زندگی اور ترقی کے اثاثوں اور دولتوں اور غنیمتوںمیں مسلسل اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ (یومنون باالغیب) اور ان مخلصانہ اور محبوب رب العالمین مساعی کے ذریعے انسانی زندگی کی مصیبتوں کے خاتمے اور مسائل کے حل تلاش کر کے ایک ترقی پرور نظام زندگانی کی بنیاد رکھتے ہیں۔ (ویقیمون الصلوۃ) انسانی سماج سے تفریق و امتیاز اور استحصال کے خلافِ فطرت ماحول کا مکمل خاتمہ کر کے یکجہتی، یک رخی اوریکجائی، مطابقت اور انس ومحبت سے بھرپور فدا کارانہ خلوص پہ مبنی ترقی پرور اور زندگی افزا نظام حیات کی بنیاد کو قائم اور استوار کرتے ہیں۔
اقامت صلوٰۃ کی حقیقت:
(و یقیمون الصلوۃ) اسکے بعد خارجی قوتوں اور بیرونی عناصر کیلئے اپنی زندگی میں تفریق، انتشار مداخلت کاری اور دخل اندازی کا بھی خاتمہ کرتے ہیں۔ ایسے مثالی سماجی نظام زندگی کی بنیاد ڈالتے ہیں۔ ان کی سماجی شکست و ریخت کے امکانات ہمیشہ کیلئے معدوم ہو جائیں۔ (ویقیمون الصلوۃ) وسائل زندگی اور وسائل ترقی اور جتنے اسباب فروغ زندگانی امکان میں یا ان کے پاس موجود ہوتے ہیں ان پر غاصبانہ قبضہ نہیں جماتے۔ انکی ملکیت کا غیر فطری بلکہ خلاف منشاء رب العالمین دعویٰ نہیں کرتے بلکہ انکو تمام نوع انسانی کی فلاح و ترقی کیلئے اور کرئہ ارض پر تمام انواع حیات کی بقاء اور فروغ کے عظیم الشان مقاصد کیلئے وقف کر دیتے ہیں۔
رزق اور انفاق کی حقیقت:
(و مما رزقنھم ینفقون) زندگی کے احیاء، زندگی کی بقا اور زندگی کو فروغ دینے والے تمام اسباب و سائل اسکی ملکیت ہیں۔ میرے بندوں کے قلوب و اذہان میں یہ یقین راسخ ہو جاتا ہے کہ ہماری ذہانتوں اور صلاحیتوں کے استعمال کے نتیجے میں پیدا ہونے والا اور قابل عمل بننے والا ہر اثاثہ اور دولت اور ترقی کا ہر وسیلہ خواہ ذہنی، مادی، وسیلہ اور اثاثہ ہو یا ذہنی تخلیقی، علمی، شعوری وسیلہ اور اثاثہ ہو نظام قدر ت اور قوانین فطرت کی ملکیت اور اسی کی دین اور عطا ہے۔لہٰذا اس پر حق ملکیت نہیں بلکہ حق انتفاع ہے اور یہ انسانیت اور زمین پر اور اسکے قرب و جوار میں موجود انواع حیات کی ہمارے پاس امانت ہے۔ لٰہذا ان تمام اثاثوں اور اسبا ب و سائل زندگانی کو ہم نظام قدرت کے نام موسوم کر کے انسانی حیات اور دیگر انواع حیات کی بقاء اور فروغ کیلئے ہر آن صرف کرنے اور لٹانے کے پابند اور ذمہ
Reader Comments (0)
No comments yet. Be the first to review!
Leave a Comment