FitratAurMahool (Page 31)

Read in:
ربوبیت کی قوت ناظمہ: پھر ربوبیت کی مہربانیوں اور فطرت کی فیاضیوں کو تہذیب کی ویرانیوں اور تمدن کی سو ختہ سامانیوں کی طرف مائل اور متوجہ کرنیکیلئے بھی انسانی تاریخ کو ندامتوں اور پشیمانیوں کے کتنے سوگوار عرصے درکار ہوتے ہیں۔ فطرت کی حددوسے تجاوز کرنے والی تہذیبوں اور انسانی تمدنوں کے ذہنوں سے جب اُمید کی لو محو ہونے لگتی ہے۔ اور یاس و حسرت جب ہر طرف سے گھیر لیتی ہے خوف اور مصیبت کے بے پناہ محاصرے میں فطرت کی آغوش میں جائے پناہ تلاش کی جاتی ہے۔ (ولاالضالین)، ضلالت اپنی انتہا کو پہنچ کر قوانین فطرت کو فیصلہ کن اقدامات پر اُبھارتی ہے۔ عبرت آموزی کی بنیادوں سے نئے تمدنوں اور تہذیبوں کی بنیاد اٹھتی ہے۔ فطرت نئے سائنسی قوانین و انکشاف کے ذریعے نئی ٹیکنالوجیکل اپروچ کے ساتھ خام مادی وسائل کو کار آمد بنا کر تخلیق و پیداوار کے نئے نظام کے ساتھ ماحول اور ذہن کی گہری پرتوں سے قدرت کے مستور خزانوں کو سطح زمین پر انسانی ذہن کی دسترس میںلا کر ان کے منفعت بخش اثرات کو انسانی نسلوں تک پہنچا کر نئی تہذیب اور نئی تاریخ کا آغاز کرتی ہے۔ اللہ رب العالمین کھرب ہا کھرب سال سے تخلیق اور کائنات سازی، تخلیق و ایجاد کے بے پناہ کاموں میں بغیر کسی اجرت اور صلے کے مصروف خدمات ہے۔ وہ کوئی دقیقہ بھی فروگذاشت نہیں کرتا اور نہ کوئی لمحہ ضائع کرتا ہے۔ اسکے خلوص کا یہ عالم ہے کہ وہ بے انت کائنات میں رینگتی حیات کیلئے اسباب حیات اور وسائل بقائے زندگانی اور بقائے فروغ زندگی پیدا اور مہیا کرنے کیلئے ہر دم مستعداور تیار رہتا ہے۔ مادے کی وجودی حالت اور زندگی کی شعوری حالت اس کی کارکردگی کا زندہ ثبوت ہے۔ زندگی کے ہر لمحہ ثبات و قیام کیلئے اور اسے Generate جنریٹ اور Automatic آٹو میٹک رکھنے کیلئے نئے وسائل ہر لمحہ پیدا کرتا ہے، زندہ رکھتا ہے اور فروغ زندگی کا باعث بنانا ہے۔ زندگی کی باریک ترین اکائیوں سے لیکر بے کنار کائنات کے ہیبت ناک سیاروں تک نامعلوم کائنات کی بے شمار کہکشاؤں سے لیکراجرام فلکی کے حیرت ناک سلسلوں تک رب العالمین کی پر خلوص خدمات کا سلسلہ یک لحظہ انتقاع کے بغیر جاری و ساری ہے۔ اسکی پیدا کردہ مخلوق میں تمام انواع حیات مقررہ قوانین کے تحت متحرک و سرگرداں ہیں اور اپنے نظام حیات کی ضرورتوں سے خوب آگاہ ہیں، اور انکو مہیا و میسر کرنے کیلئے ہر دم بے تاب و بے قرار ہے۔ تمام انواع حیوانی میں با اختیار مخلوق صرف انسان ہے جواتنا مجبور کر دیا گیا ہے کہ اپنا مقدر بھی اس سے بیگانہ ہو گیا ہے اور اس کا نصیب بھی ا س سے روٹھ گیا ہے۔ صفحۂ زمین پر ہر چیز اس کی ملکیت ہو نے کے باوجود اس سے چھین لی گئی ہے۔ خلاقِ زمین و آسمان اپنی کوئی احتیاج نہ ہونے کے باوجود بھی انسان کی حاجتیں پوری کرنے میں مصروف ہے اور انسان نے اپنے ہم جنس کو حاجتوں اور ضرورتوں کا غلام بنا دیا ہے انسانوں کی اکثریت کائنات کی تسخیر کی بجائے اپنے آپ سے بیگانگی میں مبتلا ہو گئی ہے۔

Reader Comments (0)

No comments yet. Be the first to review!

Leave a Comment

| |