FitratAurMahool (Page 30)

Read in:
اور پابندی کو اپنا جزو اخلاق و ایمان بنائینگے۔ رسول اللہ ﷺ نے جس جنت نظیر فضا اور سکون پرور ماحول کی آبیاری اپنے خون جگر اور بے پناہ خلوص سے کی تھی اور جس پر برتر آفاقی انکشاف اور حیرت انگیز علم پر اس انسانیت پرور معاشرے کی بنیاد رکھی تھی اس مثالی معاشرے کے فطرت پسند افراد اپنے منفعت بخشاعمال و کردار کے مظاہرے کے بعد اپنے محبوب رب العالمین سے کردار و اعمال پر ثابت قدم رہنے کی اپنے اللہ سے ہر دم دعا کرتے تھے۔ وہ رسول اللہﷺ کی حیات افزا تعلیمات اور پر خلوص راہنمائی میں اپنے جذبات و احساسات کی پاکیزگی کی بدولت راحت و اطمینان حاصل کر کے اپنے سماجی ماحول پر دسترس حاصل ہونے کے بعد فطر ت اور کائنات کے بارے میں اپنے علم اور ویژن میں مسلسل اضافہ کرتے جا رہے ہیںاور اپنی ذہنی ڈائریکشن کو اپنے رب العالمین کی منشاء کے مطابق ثابت قدم رہنے کی اور اس میں بے پناہ وسعت و پھیلاؤکی بارگاہ ربو بیت میں پرزور آرزوئیں، اھدنا الصراط المستقیم کے الفاظ میں پرو کر کرتے تھے کہ اے اللہ تو ہماری سمت اور ڈائریکشن اصول فطرت کے درست خطوط پر رکھنا تا کہ تیری منشاء اور ہماری پیش نہاد ہم سے اوجھل نہ ہو جائے اور فطرت کا حسن و جمال اس قدر واضح اور بے نقاب ہو جائے کہ ہم کسی تذبذب اور ابہام کے بغیر اس اعلیٰ ترین فطری نصب العین کو پالیں جو ربوبیت کا پسندیدہ ہے اور انسانی ماحول کی وسعت کا باعث ہے اور ربوبیت کی بارگاہ معلیٰ سے انسانی ماحول پر زمینی حیات پر نعمتوں اور بخششوں کا موسلا دھار مینہ برسنا شروع ہو جائے اور نعمتوں کی فراوانیاں اور علم و دانش اور بصیرت، حکومت و سلطنت، غلبہ و شوکت اور آزادی و خودمختاری کی صورت میں ہم پر ہر آن نزول ہواور ہم ترقی پرور شعور اور وسعت پذیر امن افزا ماحول کو اپنی آنکھوں کے سامنے پاسکیں اور اپنے قلب و ذہن کی وسعتوں میں ان مسرتوں کو سمو سکیں اور ان نعمتوں سے ملنے والی خوشیوں کے وسیع ترین تناظر میں مسلسل ترقی کا ایک ویژن بنا سکیں جو نعمتوں کو مستقل کر دے۔ صراط الذین انعمت علیہم اور انسانی تہذیبوں کے طویل ترین ماضی کے تلخ ترین تجربات اور ذلت ناک شکست و ناکامی اور نعمتوں کے چھن جانے کے افسوس ناک واقعات سے نتائج خیزی اور عبرت آموزی کر سکیں اور ربوبیت کے قہر وغضب کے دلوں میں اندھیرے بھرنے والے احساس کی یادیں ہی اس قدر اندوہناک ہیں کہ انسے پناہ کی دعاؤں میں وہ اپنی عافیت محسوس کرتے ہیں۔ غیر المغضوب علیہم اور قوانین فطرت اور آئین رب العالمین سے تاریخ انسانی میں قوموں اور امتوں کے انحراف کی المناک تاریخ کے عواقب و نتائج اللہ کے ترقی پسند بندوں کو سہم میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ جب مایوسی اور زوال کے مہیب سائے قوموں اور تمدنوں کے عمران کی فضاؤں کو اپنیگھیراؤ میں لے لیتے ہیں اور تباہی و ہلاکت کے بادل ہر طرف سے گھر کے آجاتے ہیں اور آئینِ فطرت کی طرف رجوع کے علاوہ قوموں کی کوئی جائے پناہ نہیں ہوتی اور اُجڑی ہوئی بستیوں کے ویران کھنڈرات اور ویران تہذیبوں کے آثارعبرت آموز نشانیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ فطرت کے ٹریک سے اتر جانے کے بعد صدیوں تک تہذیبوںاور تمدنوں کے عروج کے واپس لوٹنے کے آثار تک باقی نہیں رہتے۔

Reader Comments (0)

No comments yet. Be the first to review!

Leave a Comment

| |