Content not available in English.
الشان رسول حضرت محمد ﷺ بین الاقوامی اور عالمی معاشروں کیلئے عالمی امن کیلئے معاشی عدل اور سماجی ترقی کیلئے فطری قوانین کا عالمی نظام لیکر آئے تھے۔ ایک عظیم الشان کائناتی پروگرام اور ویژن لے کر آئے تھے۔ ترقی اور انسانی مقاصد کا فطری نصب العین لیکر آئے تھے۔کرئہ ارض کے مجموعی معمورے کیلئے محدود زمانی احاطوں سے بالا تر لائحہ عمل لیکر آئے تھے۔ انسانی ضمیر اور احساس کو زندہ اور بیدا کرنے کیلئے آئے تھے۔ ایک عالمی انقلابی معاشرے کی تشکیل کیلئے آئے تھے۔ مظلومیت اور محرومی کی کوکھ سے پھوٹے ہوئے دکھ درد کو سائنسی، سماجی، شعور کی بنیاد پر انسانی سماج کی تنظیم و تشکیل کیلئے آئے تھے۔ انسانی معاشرے کی محکومی، بے عزتی، بے قدری کی بنیادیں اکھیڑنے کیلئے آئے تھے۔ انسانی معاشرے کے ظالم اور ہوس کارمقتدر طبقات کے جبرو ستم، بادشاہت، آمریت، غرور و تکبرکو صفحۂ زمین سے کھرچنے کیلئے آئے تھے۔ انسانیت کا مقدر تاریک کرنے والے غاصب طبقات کی شان و شوکت اور جاہ وجلال یکسرمٹانے کیلئے آئے تھے۔ اللہ کے عظیم الشان رسولﷺ قوانین فطرت اور آئینِ رب العالمین کی عملداری قائم کرنے کیلئے آئے تھے۔ اصحاب رسول اللہ اپنے بدوی ماحول سے نکل کر بین الاقوامی اور عالمی ماحول پر چھا گئے۔
قرآن مجید میں قیامت تک دنیا میں ظہور پذیر ہونیوالی انسانی مخلوق کیلئے فطری اخلاقیات کا چارٹر موجود ہے:
ان کی عزت، آبرو، تمکنت اقتدار انکے عالمی سماجی شعور انکی سائینٹیفک اپروچ کی بنیاد رسول رب العالمین اور اور کتاب رب العالمین کے سوا کیا تھی؟و ہ کونسا روح افزا اور بصیرت افروز علم تھا جس کی بدولت اصحاب رسول اللہ دیکھتے دیکھتے تمام بادشاہتوں کا نام و نشان مٹا کر دنیا کے اکثر خزانوں کے مالک بن گئے اور تمام دولتوں اور غنیمتوں کے ہاتھ آجانے کے بعد بھی وہ ان عالمگیر انقلابی مقاصد کی تکمیل کی اخلاقی ذمہ داریوں سے یکسر غافل نہیں ہوئے۔ جن بھاری اخلاقی ذمہ داریوں کا مکلّف انہیں رسول اللہ ٹھہرا گئے تھے ان کا اسلام دوسروں کی سلامتی کو یقینی بنانا تھا۔ ان کا ایمان، محبوب رب العالمین کا اخلاق اختیار کرنا تھا۔ ان کا تقویٰ قوانین رب العالمین کی نگہداشت و حفاظت امر رب العالمین کا التزام اورمنہیات رب العالمین سے احتیاط تھا۔ رسول اللہ نے قرآن کی آیات مبین پر انکی اخلاقی بنیاد استوار کی تھی۔ان کی محبوب رب العالمین اخلاقیات انکی جہانداری اور جہانبانی کی صلاحیتوں کا بنیادی سبب بن گئیں۔ اللہ رب العالمین کے بے پناہ مبارک نام اور اسکی طرف مکمل توجہ اور اسکی طرف التفات سے وہ اپنے کاموں کا آغاز کرتے تھے۔ وہ اپنے معمولی کاموں اور حاجتوں سے لیکر بڑے بڑے مقاصد اور فیصلوں کاآغاز بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے کرتے تھے۔ یعنی ہم اپنے اس معمولی مقصد سے لیکر عالمگیر تبدیلیوں کے برپا کرنے کے عزائم اور صورتحال کارخ موڑنے کی مہم کا آغاز اللہ کے نام سے کر رہے ہیں۔ پھر زمانے نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ اصحاب محمدﷺ کو اپنے کسی کام میں ناکامی اور شکست کامنہ نہیں دیکھنا پڑا۔ وہ کائنات کے بلندوپست میں اللہ رب العالمین کے علاوہ کسی اور قوت اورمقتدر ہستی کا تصور بھی اپنے ذہن میں نہیں لاتے تھے اور صبح وشام انکا وردِ زبان اور حرز جاں الحمد اللہ رب العالمین تھا۔ وہ کون و مکاں میں اللہ کے علاوہ کسی کی بالادستی کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ وہ امکانات کی ہر لحظہ پیدائش اور اختیار آزادی کی توسیع کے یقین سے سرشار تھے۔ اس کا اظہار وہ الرحمٰن الرحیم کی صورت کرتے تھے وہ اپنے ہر قول کی ادائیگی اور اپنے ہر عمل کی سر انجام دہی میں اس بات اور حقیقت کو پیش نظر رکھتے تھے کہ ہرعمل، رویے اور برتائو کی جزا ء وسزا کیلئے رب العالمین کے ہاں ایک وقت مقرر ہے اور انہی اعمال کی بناء پر جزاو سزا کا تعین ہو گا۔ اسی احساس کے پیش نظر وہ پکار اٹھتے تھے۔ مالکِ یومِ الدین یعنی تمام جزاو سزا کی بنیاد کا خود تعین کرتے ہیں اور فیصلے کا وقت آنیوالا ہے۔ جب تمام اعمال میزان پر رکھے جائینگے اور ہر ایک شخص اپنے اعضائے جسمانی کے ہاتھوں اور اپنے قلب و دماغ کے ہاتھوں بے بس ہو کر اپنا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دے گا۔ اس لئے کہ جب اپنی جان بھی اپنا ساتھ نہیں دے گی اس وقت وہی مالک ہو گا۔ (۱۹) رسول رب العالمین کی جہاں پر ور تعلیمات جو اس عہد میں سلامتی اور امن کے فطری دائرے میں یعنی اسلام میں داخل ہونے والے ہر شخص کی اخلاقیات بھی بنتی جارہی تھیں اور اس انسان پرور معاشرے کا قانون بھی بنتی جارہی تھیں۔جب اس معاشرے کے افراد قوانین رب العالمین اور قوانین فطرت کی پاسداری
Reader Comments (0)
No comments yet. Be the first to review!
Leave a Comment