FitratAurMahool (Page 28)

Read in:
، انبیاؑ، مرسلین ؑ کی اخلاقیات فطرت کی تفسیر ہیں قرآن مجید کی روشن آیات سماجی صورتحال کی گہرائی میں اتر کرتجزیہ اور انسانی فطرت کی گہرائیوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے سماجی ماحول اور معاشرتی صورتحال میں مثبت انقلابی تبدیلیاں لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ محض دعویٰ نہیں بلکہ کھلی واشگاف اور روشن حقیقت ہے اور اس کا واضح ثبوت حضرت محمدﷺ کے بعثت کے زمانے کی فطرت کے ٹریک سے مکمل اتری ہوئی سماجی صورتحال کو مکمل فطری ماحول میں یکسر تبدیل کردینے میں رسولﷺ کی معجزاتی صلاحیت کے بطون میں قرآن حکیم کے فیصلہ کن کردار سے ملتا ہے۔ حضرت محمدﷺ غار حرا سے اتر کر جب سوئے قوم آئے تھے نسخہ کیمیاء ساتھ اپنے لائے تھے۔ یہی بجلی کاکڑکا تھا، یہی صوت ہادی تھی، عرب کی زمین جس نے ساری ہلا دی تھی۔ یہی قرآن کی آیات معجز بیاں تھیں جن کی باطل شکن تاثیر سے صحرائے عرب کے حودی خواں زمانے کے امام بن گئے تھے۔مظلوم انسان کیلئے لازم ہے کہ وہ سائنس اورٹیکنالوجی پر عبور کے ساتھ ساتھ کتاب رب العالمین سے اپنا مضبوط رشتہ استوار کرلے اور سائنسی علوم کی قوت قاہرہ کو اپنا راہنما تسلیم کر لیاور ٹیکنالوجی کو اپنے اوپر فرض کرلے کیونکہ قرآن مبین انسان کے تاریک ذہن میں علم کی روشنیاں اور عمل کی بجلیاں بھر دیتا ہے۔ سائنسی علوم ہر دور کے انسانی معاشرے کو اس عہد کی ترتی پرور سماجی قدروں پر دسترس عطا کرتے ہیں اور ٹیکنالوجیکل سائنس ہر عہدکے انسانی معاشرے کے لئے بازوئے شمشیر زن رہی ہے۔ قرآن حکیم باضابطہ طور پر ایک عالمی، فلاحی اور انقلابی معاشرے کی بنیادیں آج بھی استوارکرنے کی صلاحتیں رکھتا ہے۔ قرآن حکیم منشاء فطرت کی وضاحت کرنے والادستور رب العالمین ہے: یہ حیرت انگیز کتاب تاریخ انسانی کے یادگار ایام میں ایک بینظیر و بے مثال معاشرہ قائم کرنے کی مثال فراہم کر چکی ہے۔ جو ڈیڑھ سو سال تک اپنی کامل طاقت اور اثرات کے ساتھ موجود رہا۔ اسکے منفعت بخش اثرات آج تک باقی ہیں۔ قرآن حکیم کے فہم کامل سے اس فردوس گم گشتہ کی یافت آج بھی ممکن ہے۔ کیونکہ قرآن حکیم کے اندر ہی تمام کائناتی علوم و فنون اور انکشافات کا ایک ’’کی بورڈ‘‘ نصب ہے۔ اسی میں ڈوب کر اس کی گہرائیوں میں سے دانش و عدل کے موتیوں کی خیرات سے عمرابن خطاب جیسا اونٹوں کا چرواہا مالا مال ہوا تھا۔ جس نے رومن اور پرشین ایمپائرز کے تمدنی اور تہذیبی غرور کو خاک میں ملادیا تھا اور اسی قرآن کے نور سے اپنے سینے کے نہاں خانوں کو منور کرنے والا اور کتاب رب العالمین کے پر جلال سمندروں کی گہرائیوں سے وسعت، طاقت و جبروت کے حیرت انگیز خزانے حاصل کرنے والا غواص خالد بن ولید سیف اللہ تھا جس کی لرزہ براندام کرنے والی شمشیر کی برش و تابانیوں کے سامنے سامراجی ظلم کی انسانیت دشمن بادشاہتوں کی اسلحی ٹیکنالوجی کی سبقت اور عددی برتری کا غرور ذلت اور رسوائی کی تلچھٹ چاٹنے پر مجبور ہو گیا تھا۔ قرآں سماجی امن اور معاشی ترقی کی آج بھی ضمانت فراہم کر سکتا ہے مگر شرط صرف اتنی سی ہے کہ قرآن مبین کو قرآن مبین کے ذریعے سائنسی انکشافات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ قرآن حکیم کی راہنمائی سے آج بھی مظلوم انسانیت کی بگڑی ہوئی قسمت سنور سکتی ہے۔ اللہ رب العالمین نے قرآن حکیم کو کسی مذہبی فرقے کی کتاب بنا کر نہیں بلکہ مظلومیت کی مصیبت میں گھری ہوئی انسانیت کیلئے دستور فطرت بنا کر حضرت محمدﷺ کے پاکیزہ اور مقدس دل پر اُتارا ہے۔ اس میں قوانین فطرت کی تمام تفاصیل موجود ہیں اور آئین فطرت سے روگردانی کے نتائج بھی درج ہیں۔ فسادفی الارض کے مہلک نتائج سے بھی قوموں کو آگاہ کیا گیا ہے۔ قرآن حکیم میں ہر عہد کے انسانی معاشروں کے مابین عمرانی معاملات کا طریقہ کار موجود ہے: اس میں سماجی سائنس کے تمام رہنما اصولوں کی شہادت بھی موجود ہے۔ انسانی سماج کی آئین فطرت میں راہنمائی کے ضابطے بھی موجود ہیں۔ آئندہ صفحات میں قرآن حکیم کی آیات سے انسانی، سماجی، زمینی، اور فطری ماحول معاشی عدل اور اعلیٰ انسانی قدروں کے حامل معاشرے کے حصول کیلئے راہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کی جائیگی۔ کیونکہ اس قرآن میںعبرت آموزی اور نصیحت کوشی کے سامان اور ہر سلیم الفطرت شخص اور قوم کیلئے جو انسانیت کی بے کسی پر بے قرار ہونے والا دل رکھتا ہو اورمنشائِ فطرت کی تعمیل کی جزا سے آگہی کا تجربہ رکھتا ہو اور وہ قوانین فطرت اور سائنسی قوانین اور ٹیکنالوجیکل اپروچ کے ذریعے مظلوم انسانی سماج کو سائنسی کلیہ سے وابستہ کر کے شکست کے اسباب کا سدباب کر لے۔ عالمین کیلئے مبعوث کئے گئے اللہ کے عظیم

Reader Comments (0)

No comments yet. Be the first to review!

Leave a Comment

| |