FitratAurMahool (Page 27)

Read in:
مظلوم انسانی حیات کی کائناتی حیثیت: مظلومیت کے تعفن اور غلاظت میں لتھڑی ہوئی انسانی زندگی خود زندگی، فطر ت اور رب العالمین پر بدترین الزام ہے۔ جس مظلوم انسانی حیات پر انسان ہونے اور زندہ ہونے کے دوہرے الزامات ہیں ان میں زندگی،اختیار، آزادی، شعور، احساس اور ضمیر کی رمق تک موجود نہیں ہے۔ انسانیت کا خمیر مذکورہ اوصاف کے اجزائے ترکیبی سے تیار ہوتا ہے اور ان اوصاف میں سے ایک چیز بھی موجودہ مظلومیت کے نظام حیات میں شامل نہیں ہے۔ یہاں مظلوم انسانی حیات کی غذا سے ظالم انسانی حیات زندگی کا سامان کرتی ہیں۔ مظلوم نوع انسانی ظالم نوع انسانی کی خوراک بننے کیلئے زندہ رہتی ہے۔ موجودہ عالمی ماحول میں ظالموں کی زندگی کا دارومدار مظلوموںکی موت پر ہے اور جابر انسانی طبقات کی عیش و عشرت اور آسودگی، مظلوم انسانوں کی محرومی اور بے کسی کے دم قدم سے ہے۔ آلودگی اور تعفن، غربت اور افلاس کے ماحول کی پیداوار ہے۔ پسماندگی اور جہالت کی پیداوار ہے ناداری اور محرومی کی پیداوار ہے۔ غربت عدم تحفظ پیدا کرتی ہے اور عدم تحفظ بے حسی ولاپرواہی پیدا کرتا ہے۔لاپرواہی بے گانگی پیدا کرتی ہے۔ غربت اور نفرت کے شکار اورذلتوں کے مارے ہوئے لوگوں سے نفاست اور طہارت کی توقع رکھنا حماقت ہے۔ بیگانگی انسان کو اپنی ذات اپنی شخصیت سے بیگانہ کر دیتی ہے۔ اپنے آپ سے بیگانے لوگ اپنے گردو پیش کی صورتحال اور اپنے ماحول سے بیگانے ہوتے ہیں۔ اشیاء اور واقعات کے فطری محرکات: سب سے بڑی آلودگی ذہنی آلودگی ہے جو ماحول میں تعفن اور آلودگی کا باعث بنتی ہے۔ فطرت میں محرکات سب سے اہم ہیں۔ اشیاء سے پہلے ان کے محرکات ہیں۔ حادثات سے پہلے انکے محرکات ہیں۔واقعات سے پہلے انکے محرکات ہیں اور اشیاء، واقعات اور حادثات کے محرکات کی تلاش اور جستجو کو سائنس کہا جاتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ آلودگی اور تعفن کا کوئی فطری محرک پہلے سے موجود ہے۔ ماحولیاتی آلو دگی کا محرک ذہنی پراگندگی ہے اور پراگندگی کا محرک بیگانگی ہے۔ بیگانگی کا محرک لاپرواہی ہے اورلاپرواہی کا محرک بے حسی ہے۔ بے حسی کا محرک عدم تحفظ ہے اور عدم تحفظ کا محرک غربت ہے۔ غربت کا محرک جہالت ہے اور جہالت کا محرک تخلیق کا فقدان اور اشیاء و دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ہے اور دولت اور اشیاء کی غیر منصفانہ تقسیم کا محرک غاصبانہ ہوس پرستی ہے۔لہٰذا اشیاء، واقعات، حوادثات اور انسانی مسائل کے محرکات کا ادراک کر کے انکو ختم کیا جائے۔ دولت کے سرچشموں پر غاصبانہ قبضہ ختم کیا جائے۔ محنت کی اسیری ختم کی جائے۔ تخلیق ایجاد کی بے عزتی اور بے قدری ختم کی جائے اجارہ داریاں ختم کی جائیں۔ فطرت سے انحراف کی ہر صورت کا خاتمہ: خلاف فطرت صورتحال ختم کی جائے۔ غیر آئینی اور غیر قانونی مسلط حکمرانی کا جواز ختم کیا جائے۔ غیر پیداواری طبقات ختم کئے جائیں۔ انسانی معاشرے میں بے کار غیر تخلیقی، غیر پیداواری عناصر کا بوجھ مکمل ختم کیا جائے۔ غیر سائنسی اور مذہبی جہالت کی پرورش اور سرپرستی ختم کردی جائے۔ گماشتے اور طفیلئے معاشرے سے باہر پھینک دیے جائیں۔ ہر شخص کو اس کی صلاحیت کے مطابق کام اور صرف منفعت بخش کام لینے اور اسکے کام اور خدمات کے مطاق اسے اجرت اور صلہ دینے کا کلچر پیدا کیا جائے۔ محنت کش طبقات کی آمریت قائم کرنے کی تحریک چلائی جائے۔ قرآن مجید میں آئین فطرت کی تمام تفاصیل موجود ہیں

Reader Comments (0)

No comments yet. Be the first to review!

Leave a Comment

| |