Content not available in English.
بے حس اور بے ضمیر ترقی یافتہ معاشرے:
انسانیت کی مظلومیت کی صورتحال اور کرئہ ارض کے زمینی، معاشرتی اور سماجی ماحول کی تباہی اور بربادی کا دلخراش اور ہولناک منظر انسانیت اپنی ڈوبتی آنکھوں کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ اس جگر فگار صورتحال کی وحشتوں میں ہر روز افسوسناک اضافہ ہو رہا ہے۔ انسانی اورزمینی ترقی کے وسائل پر ہوس پرست عالمی سامراجی طبقات کے قبضے اور تسلط کی وجہ سے انسانی معاشرے کیلئے انسانی ماحول کیلئے، سماجی امن اور عالمی امن کے فطری آدرش کو ہولناک اندیشے اور مہلک خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ دنیا کا امن سامراجی ممالک کی انسانیت دشمن سازشی جاسوسی ایجنسیوں نے تباہ و برباد کر دیا ہے۔ اسی ہوشربا صورتحال کے خاتمے کی کوئی سبیل ترقی یافتہ معاشروں کے انسانیت دوست دانشوروں اور سماجی رہنماؤں اور سیاسی لیڈروں کے پاس نہیں ہے۔ یہ تمام لوگ اپنے بے پنا ہ خلوص اور انسانیت دوستی کے باوصف اپنے اپنے ممالک کی سرحدو ں کے اندر اور اپنے معاشرتی و سیاسی ماحول کے دائروں میں محصور ہو کر اپنے معاشروں کی داخلی صورتحال کے تناظرمیں اپنی حکومتوں اور ریاستوں کے مفادکی خاطر اپنے ملکی اداروں کی متعین کی ہوئی حدود اور اپنے وضع کئے ہوئے فریم ورک کے اندر مخصوس انداز میں کام کر رہے ہیں۔ وہ عالمی آفاقی تصورات اور کرئہ ارض کی مجموعی انسانی صورتحال کے تناظرمیں سوچنے اورتحقیق و تفتیش کرنے اور خلاف فطرت صورتحال کے اندوہناک منظر کو تبدیل کرنے کی صلاحیت سے کلیۃً عاری اور محروم ہیں۔
سائنسی ترقی پر سامراجی اجارہ داری:
سائنسی تحقیق و ترقی کے تمام ادارے سامراجی اور انسانیت دشمن حکومتوں کے یرغمالی اور قیدیوں سے بھی بد تر حیثیت میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ اجڑی ہوئی تہذیبوں کے آثار اور تباہ شدہ انسانی آبادیوں کے کھنڈرات اور مسخ شدہ انسانی لاشوں کے چٹخے ہوئے جبڑوں اور پتھرائی ہوئی کھوکھلی آنکھوں کے ترازو فطرت کی دہلیز پر اپنی جبین نیاز رکھ کر ہزاروں سالہ کرب و اذیت کی تاریخ کی بے گور و کفن لاش پر سینہ کوبی کرتے ہوئے موجودہ عہد کی سائنسی ایجادات کے تہذیبی تفاخر اور ترقی یافتہ معاشروں کی علمی سبقت اور پسماندگی کی ذلتوں میں ڈوبے ہوئے معاشروں کی بھوک اور پیاس اور غربت و جہالت کے سنسان کھنڈرات پر اپنی آسودگی کے بلند وبالا میناروں کی بنیادیں اٹھانے والے ترقی یافتہ معاشروں سے بار بار مطالبہ کر رہے ہیں کہ آسودگی و بدحالی، ترقی و پسماندگی، بلندی و پستی، عزت وذلت کے مابین فطرت کی میزان قائم کی جائے تاکہ کرئہ ارض پر آباد انسانی تہذیب عدل وانصاف کی فطری بنیاد پر اپنی بقا کی منزل کی طرف جانے والے وسیع اور بے خطر راستوں پر حیات افزاء سفر کو جاری رکھ سکے۔
دنیا بھر کے دانشوروں سے آخری اُمید:
کرئہ ارض کے موسموں، انسانی حیات اور انواع حیات کے تنوع کو لاحق اور درپیش
خطرات کا ادراک کر کے تمام مہیب خطرات کے ریلے کے سامنے بند باندھنے کی مساعی بروئے کار لائی جائیں اور تمام تر خلوص کو مجتمع کر کے ارضیاتی ماحول کے تحفظ اور بقاو توسیع کا انقلابی پراجیکٹ شروع کیا جائے۔ مگر انسانی تاریخ کے کسی عہد میں انسانی معاشرے اور ماحول کے تحفظ کے کسی پروگرام کو بنیادی تصورات کو واضح کیے بغیر بنیادی کانسپٹ کو کلیئر کئے بغیر بنیادی خطوط کو متعین کئے بغیر عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکتا۔ سائینٹفک ریسرچ اور ٹیکنالوجیکل اپروچ بنیادی اور کلید ی امر ہیں۔
ایمان اور انقلابی نصب العین کے بغیر سائنسی ترقی کے نتائج:
مگر انقلابی نصب العین کے بغیر اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے بطون سے پھوٹے ہوئے دردو خلوص کی بنیاد کی عدم موجودگی میں سائنسی دریافتوں اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے منفی نتائج برآمد ہوئے ہیں، کرئہ ارض میںموجود حیات او اسباب حیات کو سب سے بڑا خطرہ جہالت، مذہب و انسانیت دشمن سامراجی حکومتوں، اداروں، تخریبی عناصر اور ہوس کار قوتوں کی طرف سے لاحق ہے جو اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کیلئے اپنی ہوس کے تعفن کو پھیلانے کیلئے اپنے مالیاتی اثاثوں میں توسیع کیلئے انسانی زندگی مادی وسائل اور انسانی وسائل کو ذاتی خود غرضی کے تخریبی مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کر کے انسانی حیات، زمینی ماحول اور وسائل کی تباہی کی راہ ہموار کرتے ہیں، عالمی سائنسی معاشرے کے قیام اور ٹیکنالوجیکل ماحول کے انسانی انقلابی تصورات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ جاہلانہ توہمات، فرسودہ مذہبی روایات اور سماجی اقدار ہیں اور ان تمام رکاوٹوں کی دیوار گرانے کیلئے فطری مطالبات کی تکمیل کیلئے سائنسی سماج کی تشکیل کے لائحہ عمل کو بنیاد قرار دیا جائے۔ موجودہ عالمی ماحول کی غیر فط
Reader Comments (0)
No comments yet. Be the first to review!
Leave a Comment