FitratAurMahool (Page 20)

Read in:
اضداد کا قانون: اضداد کا قانون اَزل سے نافذالعمل ہے۔ اس لئے امن و آشتی کی کوکھ سے اضداد کے قانون کے تحت دُکھ اور مصائب کی تاریخ نے جنم لیا اور ہزاروں سال سے انسان تہذیب کی بیڑیاں پہنے ہنر اور تخلیق کی اپنے ہاتھ سے سلگائی ہوئی آگ میں جل رہا ہے۔ اِسی شوق، محنت اور ذوقِ تخلیق کی آگ نے ہوس، حرص وظلم کی صورت میں تبدیل ہو کر انسان کے ماحول کو جہنم بنا دیا ہے جس سے فرار کی ہنوز کوئی سبیل نہیں ہے مگر قوانین فطرت میں ہر چیز اپنے مدار میں گھوم رہی ہے اور ہر ابتداء اپنی انتہا کے لئے بے چین ہے پھر ظلم کیوںنہ بے چین ہو گا،نا انصافی کیوں نہ بے قرار ہو گی، تشدد کیوں نہ اپنے آپ سے بیزار ہو گا، ہوس کو کیوں نہ اپنے آپ سے گِھن آئے گی۔ نفرت کو ایک دن ضرور اپنے ناپاک وجود سے نفرت ہو جائے گی۔ وقت کا دھارا اپنی رفتار سے بہہ رہا ہے۔ یہ ایک دن ہر عدم توازن کو توازن میں لے آئے گا۔ وقت کے محاصرہ کو کوئی چیز توڑ نہ سکے گی اور جوں جوں وقت کا محاصرہ شدید ہو گا اُس کی جکڑ سخت تر ہوتی جائے گی۔ پھر وقت کے خلاف برسرِ پیکار تمام تخریبی قوتوں کی گرفت ڈھیلی پڑتی جائیگی۔ وقت کی تیز دھار تلوار ہر خلاف فطرت تخریبی قوت کا سر قلم کر دے گی۔ وقت علم و دانش کے لشکروں کومسلح کرے گا مگر اس کے لئے ضروری ہے اور قوانین فطرت کی اولین شرط بھی ہے کہ انسانی ذہن پہلے خِرد افروزی کی چاہت پیدا کرے، روشن خیالی کے اَلاؤ روشن کرے، بیکار مادے کی موجودہ بے پناہ مقدار کار آمد بنانے کی سبیل کرے، صنعت گری کا کمال پیدا کرے، ہنر مندی کا قرینہ پیدا کرے مگر اس سے پہلے ایک اور لازمی شرط یہ ہے کہ انسان ہوس پرستی کی آگ کے تمام انگاروں یعنی مذہب پرستی، توہم پرستی، قوم پرستی، فرقہ پرستی، خود پرستی، مفاد پرستی اور دولت پرستی کو بجھا کر راکھ میں تبدیل کرکے فراموشی کے گہرے پاتال میں پھینک دے اور پھر محبت کی بنیاد پر ذہنی اور زمینی فضا ہموار کرے اور عشق کا طوفان برپا کر کے عشق کی اُمید افزا ء آنچ سے اپنی کپکپاہٹ اپنے ماحول کی یا س انگیز تھر تھراہٹ اور اپنی حیرت انگیز مایوسی کو ختم کرے، اپنی خجالت کا بوجھ ہٹا دے۔ اپنی ندامت کا پسینہ خُشک کرے، اپنی محرومی کے آنسو پونچھ ڈالے۔ آس کے دیپ جلا کر ماحول میں اُمید کی شمعیں روشن کرکے شکست و ذلت کے اندھیرے اور نا اُمیدی ختم کر ڈالے تا کہ آزادی کی کھلی اور صاف شاف فضاء میں پاکیزہ اور خوشگوار سانس لے سکے اور دُور اُفق پار کے روشن خلاؤں میں اور روشن مستقبل کے آسمان کی نیلگوں وسعتوں میں جھانک سکے۔ شاید اس کے لئے آسمانوں میںکوئی یقین کا دروازہ کھل جائے، کوئی ادراک کا دروازہ کھل جائے، کسی وجدان کا روشن جہاں اپنی وسعتوں سمیت مہربان ہو جائے اور انسان اپنی فلاح کی روشنی حاصل کر لے۔ آسمان پر مہربانی کے باب ابھی بند نہیں ہوئے ہیں۔ ابھی رحمتوں نے انسان سے مکمل منہ نہیں موڑا۔ ابھی کائناتی قوتیں مظلوم و بے کس انسان کی بے پناہ امداد کے لئے مستعد اور تیار ہیں۔ گردوں کی گزرگاہوں میں انسان کی قسمت میں چار چاند لگانے کے لئے سرگوشیاں ہو رہی ہیں۔ ابھی کہکشاؤں میں کتنی روشنی انسان کا تاریک مقدر روشن کرنے کے لئے بے تاب ہے،ابھی چاند نے اپنی ٹھنڈی اور فرحت رساں روشنی کے کتنے خزانے انسان پر لٹانے کے لئے رکھے ہوئے ہیں اور انسان کے دل و دماغ کے گہرے سمندروں کے کتنے جواربھاٹے اٹھانے ہیں اور انسانی ذہن کی تاریک اتھاہ گہرائیوں میں علم و شعور کے کتنے سورج کتنے کروڑوں سال طلوع ہو کر اپنے اُجالوں کو پھیلائیں گے، ابھی کتنے جذبوں کی لکیریں پھوٹنے والی ہیں اور کتنی رنگینی بیدار ہونیوالی ہے؟ جہالت نہیں بلکہ علم انسان کا مقدر ہے۔ خوف نہیں بلکہ اُمید انسان کا نصیب ہے۔ وہم نہیں بلکہ یقین انسان کی منزل ہے۔ پسماندگی نہیں بلکہ ترقی پسندی اور ترقی پذیری انسان کا مستقبل ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب انسان اللہ کے علاوہ ہر قوت کا محاصرہ توڑ ڈالے گا۔ ہر خوف کی آنکھیں پھوڑ دے گا۔ ہر مصیبت کے تسلط سے آزاد ہو جائے گا۔ ہر غم کے جن کو قابو میں لے آئے گا۔ تمام وسوسوں اور اندیشوں کے بادل چھٹ جائیں گے۔ تمام آفات اور بلاؤں سے نجات حاصل ہو جائے گی۔ وقت ہر زخم کی مٹا دے گا۔ وقت کا مسیحا: رفتہ رفتہ زمانہ اپنے مرہم کو ہر جابرو ظالم کے لگائے ہوئے زخموں پر لگائے گا۔وقت ہر چیز کا حساب لگائے گا۔ وقت ہر چیز کا حساب وشمار رکھتا ہے۔ وقت ہر بیمار کے لئے مسیحا ہے۔ انسان کو وقت کے ساتھ اپنا رابطہ بحال کرنا ہو گااور تاریخ کا آہنی شکنجہ توڑنا ہو گا۔ وقت کی رفاقت : وقت کی رفاقت ہی انسان کی بد نصیبی کو ختم کر

Reader Comments (0)

No comments yet. Be the first to review!

Leave a Comment

| |