FitratAurMahool (Page 21)

Read in:
سکتی ہے۔ وقت کی ہمر کابی ہی انسان کی ترقی کی منزل کو قریب تر لا سکتی ہے۔ ہر چیز وقت کے دم قدم سے ہے۔ وقت ہی نے ہر شے کو وجود بخشا ہے۔ وقت کے ساتھ رابطہ : انسان نے لاکھوں سال پہلے جب وقت سے رابطہ پیدا کیا تو اس کا ذہن تخلیقی حسن و جمال سے منور ہو گیا تھا۔ تاریخ تو انسان کی اپنی پیدا کردہ ہے۔ تاریخ تو انسانی مجبوری سے شروع ہوتی ہے آج بھی جب انسان وقت سے جزوقتی رابطہ پیدا کرتا ہے وقت اسے اپنی بخششوں سے مالا مال کر دیتا ہے۔ انسان آج بھی اپنی غذا اور اجناس کیلئے براہ راست زمین کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وقت موسم کی صورت اس کے کام آتا ہے۔ انسان صحیح وقت میں بیج بوتا ہے اور وقت ہی فصل کی صورت میں اسے ہزار گناہ اضافہ کر کے واپس لوٹا دیتا ہے۔ کروڑوں سال سے وقت اور زمین کی سخاوتوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔ وقت کے فیضان میں کوئی کمی نہیں آئی۔ انسان نے تاریخ کے بے ہودہ اور بیکار موادکو اپنے ذہن میں ٹھونس لیا ہے۔ اس طرح انسان ریاستوں اور حکومتوں کے محاصرے میں آگیا ہے خوف اور دہشت کے محاصرے میں آ گیا ہے۔ انسان اگر آج تاریخ کے بیکار مواد کو ذہن سے کھرچ ڈالے تو دنیا میں کوئی کسی کا دشمن نہیں ہے۔ کوئی خوف اور دہشت نہیں ہے۔ پھر ہر جبر و تشدد کا محاصرہ خودبخود ٹوٹ جائیگا۔ ریاست کا وجود آئین فطرت کے خلاف ہے انسانی ذہن پر اللہ اور علم کے سوا کسی کا کوئی حق نہیں ہے۔ انسانی قلب و دماغ پر محبت اور سچائی کے سوا کسی کا کوئی حق نہیں ہے۔ پھر جہالت اور نفرت نے کیسے انسانی دل و دماغ پر قبضہ جمالیا؟ قدرت کی ربوبیت اور ریاستوں کی غلاظت : پھر حکومت اور ریاست نے کیسے انسان کو محکوم بنا لیا؟ کیا پیدائش سے پہلے ہی ریاستیں اور حکومتیں انسان سے کوئی ایگریمنٹ کر لیتی ہیں؟ کیا تخلیق کے پیچیدہ عمل میں اور مادی عناصر کی تشکیل و تنظیم کے وقت حکومتیں اور ریاستیں انسان کی کوئی مدد کرتی ہیں؟ جس کے بدلے یہ انسان پر اسکی پیدائش کے فوراً بعد نئے ٹیکس اور احکام نافذ کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ کیا سیاسی اور مذہبی گروہوں نے انسانی تخلیق کے عمل میں اللہ کی کوئی مدد کی ہوتی ہے؟ کہ انسان کی پیدائش کے فوراً بعد اس پراپنا حق جتانے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں۔ انسانوں کو جب انکی مائیں آزاد اور خودمختار اور ہر آلائش سے پاک پیدا کرتی ہیں تو پھر اللہ کے علاوہ کسی اور قوت اور اتھارٹی کو کیسے حق پہنچتا ہے کہ وہ انسان کو اپنا محکوم اور غلام بنا لے۔ فطرت کے عجائب اور انسان کی جمالیات: انسان نے جمالیاتی احساس سے حس و وجدان سے کام لیکر اور اپنے گردو پیش کے قدرتی ماحول کی رعنائیوں سے متاثر ہو کر جیسا ماحول اسے قدرت سے ملا تھا اور جس قدرتی حسن و جمال نے اسے اپناگرویدہ بنا لیاتھا۔ ویسے حسن و جمال کا سماں اس نے خود بھی پیدا کر نے کی کوشش کی۔ یہ قدرت کے دلفریب حسن و جمال کو اپنے اندر سمونے کیلئے بیتاب تھا۔ یہ ازلی حسن کا پہلا شاید اور جہاں ساز حسن کا اولین گواہ تھا۔ فطرت کے عجائبات نے اسے ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ اس کے روح پرور مناظر نے اس کو حیران و پریشان کر دیا تھا۔ سب سے پہلے اس کی جمالیات اس کے اندر انگڑائیاں لیکر بیدار ہوئیں جو بالقوۃ پہلے ہی اس کے اندر موجود تھیں اور فطری حسن کے جس قدر عکس اس پر لاکھوں سال سے پڑ رہے تھے جن سے اس کے اندر جمالیاتی احساس پیدا ہوا تھا۔ اس نے وہی عکس واپس لوٹانے شروع کر دیئے۔ آج تک دنیا میں لاکھوں سال سے انسانی تخلیق و ایجاد کی روئیداد عکس لوٹانے کی روئیداد ہے۔ انسان نے وہی کچھ کیا جوقدرت پہلے ہی منظم کر چکی تھی۔ مگر یہ کیا کم تھا کہ زمین پر قدرت کے حسن و جمال کی پرچھائیاں انسانی ذہن سمیٹ رہا تھا۔ مگر جب اس کے پاکیزہ ذہن پر تاریخ کے ماضی کے معاشرے کے گناہوں کے، اور ریاست کے عکس پڑنے شروع ہوئے۔ اس کے صاف پاکیزہ ذہن میں قدرتی حسن کے بے پناہ حسین و جمیل عکس دھندلانے شروع ہو گئے ۔ اس نے اپنے شفاف ذہن اور شفاف قلب کو خوف سے آلودہ کر دیا۔ اس نے ہوس، ظلم و بد کاری کی تلچھٹ سے اپنے ذہن کو آلودہ اور خراب کر لیا۔ پھر اس نے مکرو فریب ، عیاری اور جہالت کو اپنا مذہب بنا لیا۔

Reader Comments (0)

No comments yet. Be the first to review!

Leave a Comment

| |