Content not available in English.
انبیاء ؑو مرسلینؑ کی خدمات :
اس کے ذہن کی پاگیزگی اور طہارت اسے واپس لوٹانے کیلئے لاکھوں انبیاءؑ و مرسلین تشریف لائے مگر یہ انکے حیات بخش اور ترقی انگیز پیغام اپنے سفلے پن کی بھینٹ چڑھاتا رہا۔ حسین و جمیل برگزیدہ لوگ انسان کے گرد بنے ہوئے مکرو فریب سازش اور جہالت کے جال کاٹنے کی پر خلوص کوشش کرتے رہے ۔ مگر یہ اسکی بد نصیبی کی انتہا تھی کہ یہ اُن عظیم القدر ہستیوں کے پرخلوص پیغام کو جھٹلاتا رہا۔ وہ انتہائی خلوص سے چاہتے تھے کہ اس کے گردو پیش سے ظلم و جبر آقاؤں اور پیشواؤں کا محاصرہ توڑ دیا جائے۔ اور اسے آزادی اور خودمختاری سے اپنے لئے سوچنے ، کائنات کو سمجھنے اورکائنات پر ور بننے کی ازلی بنیاد دوبارہ فراہم کر دی جائے تا کہ یہ اپنے ضمیر کے مطالبات پر توجہ دے اور اپنی ہزاروں سالہ محرومی اور بے بسی کا ازالہ کر سکے۔ اللہ رب العالمین تو اپنے سوا ہر قوت کا محاصرہ انسان کے گردسے ختم کردیگا۔ مگر انسانی زندگی کی لاکھوں سالہ محرومیوں اور بربادیوں کا کیا ہو گا؟ انسان کی ہزاروں نسلوں نے ہر عہد میں جو دُکھ جھیلا ہے، وہ ظلم و ستم جو ہر دور میںانسان کی ہر نسل نے اپنے ہم جنسوں کے ہاتھوں برداشت کیا، وہ حبس جس میں ہر دور کے انسان کا دم گھٹتا رہا، وہ خوشیاں جو صدیوں پہلے انسان سے روٹھ گئی تھیں، وہ آسائشیں جن کو ترستے ترستے ہر دور کا انسان پیوند خاک ہوتا رہا ۔
انسا ن کی محروم اور معدوم نسلیں :
ان معدوم نسلوںکو خوشیاں کون واپس لوٹائے گا؟ وہ مسرتیں جن پر معدوم نسلوں کا حق تھا زمین کی پناہوں میں ان نسلوں کی بوسیدہ ہڈیوں کو تلاش کر کے کون انکی امانتیں ان کو واپس لوٹائے گا؟ جب جزا ء و سزا سب یہیں پر ہو گی یہیں پر عذاب ثواب ہو گا۔ یہیں سے اُٹھے گا شور محشر، یہیں پہ روز حساب ہو گا ۔
انبیاءؑ مرسلین ؑ کی قربانیاں:
اور ہاں لاکھوں سال سے جو ظلم و ستم انسان پر روا رکھا گیا ہے اور سطح ارضی جن گناہوں کے مہیب بوجھ سے کپکپا اُٹھی تھی۔ جب شقی القلب انسانوں نے اللہ کے جلیل القدر رسولوں کو ناحق اور ظلما ًہر دور میں قتل کیا جن کے معصوم شہید لاشوں پر زمین ہزاروں سال بین کرتی رہی۔ جب ہزاروںحق پرستوں کو ہنستے کھیلتے ناحق بھڑکتی آگ کے شعلوں کی نظر کر دیا گیا۔ابراہیم ؑخلیل اللہ کی رسالت اور قربانیاں:
جب بابل میں اللہ کے برگزیدہ رسول ابراہیم خلیل اللہ کو ہزاروں آنسو بہاتی لرزتی آنکھوں کے سامنے دہکتی ہوئی آگ کے شعلوں کی نذر کر دیا گیا۔ کیا بابل کے مقتدر ریاستی ظلم و ستم کے انسانیت دشمن جرائم پیشہ ٹولے نے اللہ کے عظیم القدر رسول کے جسم اطہر کو جلا کر راکھ کر دینے میں کوئی کسر اٹھا رکھی تھی؟
خلیل اللہ کی عظمت :
یہ تو اللہ کا اپنے خلیل پر بلکہ انسانیت پر احسان عظیم تھاجواس نے آگ کے دوزخ کو ابراہیم خلیل اللہ کیلئے روح افزاء جنت بنا دیاانکی خواہش کے مطابق معاذ اللہ اگر ابراہیم خلیل اللہ جل جاتے تو زمین کیلئے قیامت تک کبھی یہ ممکن نہ ہوتا کہ وہ اللہ کے عظیم المرتبت رسول کو آگ میں جلائے جانے کے بعد بھی اپنی سطح پر یوں ہی سبزہ اگاتی رہتی۔ کیا یہ نارِ نمرود سے کروڑوں درجے زائد آگ بھڑکائے بغیر اللہ کے رسول کے جلائے جانے کا کفارہ ادا کئے بغیر رہ سکتی تھی؟ لیکن کیا ابراہیم خلیل اللہ کو آگ میں ڈالنے کے گناہ نہیں بلکہ ہیبت ناک اور لرزا دینے والے گناہ کے بوجھ کو اللہ نے کسی اور مخلوق کے ذمے ڈال دیا ہے یا وہ ابتک ظلم کے بدنما ماتھے کا بدترین داغ بنا ہوا ہے۔ کیا اللہ اس گناہ عظیم کا احاطہ نہیں کریگا؟ کیا اس گناہ کا وجود معدوم ہوگیا ہے؟ حالانکہ کوئی چیز اپنے موجود ہونے سے پہلے معدوم نہیں ہو سکتی کجا یہ کہ وہ اپنے واقع ہونے کے بعد کائناتی ریکارڈ سے معدوم ہو جائے یا پھر اللہ کے علم میں نہ رہے۔
موسٰی کلیم اللہ اور فرعونی بادشاہ :
جب موسٰی کلیم اللہ کو قتل کرنے کی سازش تیار ہورہی تھی تو وہ کوئی اجروثواب کا کام ہو رہا تھا؟ جب اللہ کے سجیلے رسول کو قیدو بند کی بدترین سزاؤں کے الٹی میٹم دیئے جا رہے تھے۔ جب مظلوم اور بے بس بنی اسرائیل کے نجاب دہندہ اور انسانیت کیلئے سماجی اور شعوری آزادی کے اولی العزم نقیب اور انسانیت دشمنوں کو شکست و بربادی کے بدترین انجام سے دوچار کر کے وادی سینا میں بنی اسرائیل کی نوجوان پاکباز اور جوشیلی نسل کے طوفانی جذبات کو ترقی پسند شعور میں تبدیل کر کے ہزاروں سال سے ظلم و جبر کے ریاستی، ہتھکنڈوں کی ستائی ہوئی مخلوق کیلئے کرئہ ارض پر شاید پہلی عوامی انقلابی آمریت کی داغ بیل ڈالنے والے برقناطیسی لہروں کے حامل اللہ کے جلیل القدر رسول کو فرعونی
Reader Comments (0)
No comments yet. Be the first to review!
Leave a Comment