Content not available in English.
بادشاہت کے جبر وستم اور استحصال کے شکار بنی اسرائیل کوبے پناہ عذاب سے بچانے کیلئے رات کی تاریکیوں اور بے پناہ اندھیروں میں نکلنا پڑا تھا۔ جب فرعونی لشکر ظلم کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر اللہ کے بے باک اور بہادر رسول کے تعاقب میں دوڑ پڑا تھا۔
فرعونیوں کی ذلت انگیز ہلاکت :
وہ تو موسٰی کے رب جلیل کا انسانیت پر احسان عظیم تھا کہ ظلم کے لشکر اپنی بد بختی سمیت غرقاب نیل ہو گئے۔ ورنہ انہوں نے تو بنی اسرائیل کی ساری نسل کو اللہ کے رسول سمیت تہہ تیغ کرنے میں کوئی پس و پیش نہیں کی تھی کیا اللہ نے فرعونی بادشاہت کے اس گناہ عظیم کا احاطہ نہیں کیا یا یہ بدترین گناہ اللہ کے علم میں نہیں ہے؟ جب عظیم زرتشت کو عوام دوستی کے جرم میں اللہ کے بھوک سے نڈھال بندوں کو اناج فراہم کرنے کے گناہ کی پاداش میں ایرانی بادشاہت کے ظلم کے ستائے ہوئے مجبور عوام کے سامنے زندہ دیوار میں چن دیا گیا اور جب بخت نصر بادشاہ نے بنی اسرائیل کے خون ناحق سے یوروشلم شہر کی ساری گلیاں سُرخ سُرخ کر دیں ۔
دانیالؑ نبی اللہ کی قربانی :
یوروشلم شہر سے اللہ کے رسول دانیالؑ کو گرفتار کر کے بابل لے آیا اور شہر بابل کے بازاروں میں پابہ زنجیر گھما کر اللہ کے عظیم نبی کو بابل شہر کے چوراہے میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ چالیس دن تک اللہ کے پاکیزہ رسول کی معصوم لاش بابل کے چوراہے پر لٹکانے
والابخت نصر کوئی ثواب کا کام کررہا تھا، کیا یہ گناہ عظیم اللہ کے علم میں نہیں ہے؟ اور جب زکریا نبی اللہ کے جسم اطہر کو آرے سے چیر دیا گیا تو کیا اللہ عظیم الشان نبی کی مظلومیت اور شہادت سے بے خبر تھا؟اور کیا اللہ اپنے نبی کے خون کا حساب نہیں لے گا؟
عیسیٰ ؑ ابن مریم روح اللہ کی رسالت:
اور جب قوانین رب العالمین کے حیرت انگیز عجائبات کے مظہر اور اللہ کے حیرت انگیز قوانین کی نظیرعیسیٰ روح اللہ اور انکی پاکیزہ و مقدس ماں پر یہود کے بد اندیش اور بدکار راہبوں اور پادریوں نے ناپاک اور غلیظ بہتانوںکی بوچھاڑ کی اور استحصال زدہ ظلم کے شکار عوام الناس اور پسے ہوئے مفلوک الحال لوگوں کی عیسٰی روح اللہ کی عظیم الشان قیادت میں چلنے والی تحریک آزادی سے خوفزدہ ہو کر بنی اسرائیل کے سود خور تاجروں، دولت مندوںاور انکے گماشتہ راہبوں اور پادریوں نے رومتہ الکبری کے ظالم بادشاہ اور اسکے حمایتی امراء کے ساتھ ساز باز کر کے اللہ کے عظیم القدر اور مظلوم دوست رسول کو پھانسی کے پھندے میں پھنسا نہیںدیا تھا وہ تو اللہ کی قدرت تھی کہ عیسٰی روح اللہ اپنی طویل عمر کی مشق و ریاضت کے باعث دم گھٹنے سے بچ گئے اور مدتُ العمر تک سر سبزو شاداب پہاڑی ٹیلے پر میٹھے پانیوں کی سرزمین میں اپنی والدہ سمیت خفیہ طور پر انسانیت کی سائنسی ، علمی ، سیاسی اور سماجی تحریک کی قیادت و رہنمائی کرتے رہے لیکن اللہ تو عیسٰی ابن مریم روح اللہ کی مظلومیت اور سازش کے ساتھ پھانسی چڑھائے جانے کا عینی گواہ ہے۔ کیا اللہ یروشلم کے اسرائیلی تاجروں اور انکی رشوت پر پلنے والے راہبوں، پادریوں اور رومتہ الکبریٰ کی ظالم بادشاہت کا یہ بدترین گناہ معاف کردیگا؟ کیا وہ اپنے انسانیت دوست عظیم القدر رسول کو پھانسی پرلٹکے ہوئے دیکھ نہیں پایا تھا؟
Reader Comments (0)
No comments yet. Be the first to review!
Leave a Comment