Content not available in English.
محمد الرسول اللہ ﷺ کی عزت و عظمت :
اور اللہ کا وہ صاحب عزت و عظمت رسول محمد ﷺ جنکی لزرہ براندام اور جان سوز تکلیفوں کے پیش نظر برو بحر اور شمس و قمر قیامت تک ان پر تحسین و سلام نچھاور کرتے رہینگے۔ کیا ذوالمجنہ کے بازاروں اور عکاظ کے میلے میں ان کے پاکیزہ جسم کو چھلنی کرنے والے نوکیلے پتھروں کے باعث بدن مبارک سے بہنے والا گرم گرم خون اور عین صحن کعبہ میں دوران عبادت بے پناہ تشدد کے باعث انکے چہرہ انور سے بہنے والے بے پناہ سرخ خون کے قطروں کو اللہ رب العالمین بھول جائیگا؟ اور کیا طائف کے بنوثقیف کے سردارکی طرف سے کی جانے والی توہین اور دربار سے دھکے دیکر باہر نکالنے کے بعد بھی طائف کے مٹیالے اور دھول اُڑاتے بازاروں میں تیز تیز ڈگ بھرتے ہوئے رسول ؐکے جسم مبارک پر پڑنے والے بھاری نوک دار پتھروں کی بوچھاڑ کے باعث رسولؐ اللہ کے جسم اطہر سے بہنے والے خون کے فواروں کو اللہ فراموش کر دیگا؟ اور کیا رسول اللہ کی پنڈلیوں سے بہ کر جوتیوں میں جم جانے والا اور جوتیوں کو پاؤں سے چپکا دینے والا بے آسرا لہو اللہ کے حساب میں نہیں ہے۔ اور کیا عتبہ بن ربیعہ کے انگوروں کے باغ میں بے انتہادرد کی شدتوں میں کراہتے ہوئے آسمان کی طرف بے بسی کی نگاہیں اُٹھائے ہوئے اپنی بے کسی پر خون کے آنسو روتے ہوئے رسول کی شکایتوںاور فریادوں کو اللہ رب العالمین اپنی بارگاہِ معلیٰ میں شرف قبولیت نہ بخشے گا؟ اور فاقوں سے نڈھال اولاد کی بے کسی کے باوجود دکھ اور بھوک کی ستائی ہوئی مظلوم انسانیت پر مہربانیوں اور سخاوتوں کی بارش کرنے والے بے انتہا سخی اور جواد رحمدل رسول کی مہربانیوں سخاوتوں اور بے پناہ خلوص کو اللہ بھول جائیگا؟ اور اموال غنیمت کی تقسیم کے بعد اپنی عفٹ و عصمت مآب بیٹی کی مال غنیمت سے محرومی کی شکایت پر اللہ کی رضوان اور جنت کی بشارت دیتے ہوئے انکے ہاتھوں کے چھالوں پر اچانک نظر پڑتے ہی اپنی آنکھوں سے آنسوؤں کے سمندر کو بہ نکلنے سے روک کر اپنی خوبصورت چمکتی آنکھوں کو ہنستی مسکراتی رکھتے ہوئے اللہ کی خوشنودی کی تسلیاں اور اپنی بے پناہ محبت کی تشفی دینے والے رسول جن کی قانون رب العالمین کی وضاحت کے دورانیے کی مصیبتوں کو یاد کر کے آج بھی
شام اداس اور سوگوار ہو جاتی ہے۔ جنہوں نے اپنی مصیبتوں اور تڑپا دینے والی تکلیفوں کو فراموش کر کے انسانیت کو راحت اور مسرتوں کے تحفے دیئے۔ جنہوں نے اپنے علم کی تابانیوں سے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے صحرائے عرب اور چاردانگ عالم کو روشن اور منور کر دیا تھا۔ جنہوں نے غلامی اور ذلت و گمنامی کے اندھیروں میں بھٹکتے ہوئے اور جہالت کی ظلمات میں ڈوبے ہوئے عرب کو انتشار اور بت پرستی کے شرک سے نکال کر اتحاد اور توحید کی روشن راہ پر ڈال دیا تھا۔ جنہوں نے عرب قبائل کی آپس کی صدیوں پرانی دشمنیوں کو مٹا کر ان کو آپس میں جگری یار بنا کر انکے تاریک ذہنوں کو قرآن مبین کی روشنی سے منور کر دیا تھا۔ بغض ، عناد اور انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے جوش و غضب سے بھرے ہوئے دشمنوں کو آپس میں جگری یار بنا کر ان کے تاریک ذہنوں کو قرآن مبین کی روشنی سے منور کر دیا تھا اور انکے اجڑے ہوئے ویران دلوں سے ہوس اور گناہ کے جذبات نکال کر ان کے دل کے نہاں خانوں میں حریت، انقلاب اور آزادی پرور انقلابی جدو جہد کی تڑپ ڈال کر اس وقت کی دنیا کے مہذب براعظموں میں امن و سلامتی اور خوشحالی کی عظیم اور حقیقی مقاصد کی اپنی پر خلوص جدو جہد سے تکمیل نہیں کر دی تھی؟ کیا انکی آفاقی عدل گستری کی عطر بیزیوںسے ساراجہاں مہک نہیں اُٹھا تھا؟ کیا احسان شناس رب العالمین رسولﷺ کے پُرخلوص اعمال کو میزان پر نہیں رکھے گا؟
Reader Comments (0)
No comments yet. Be the first to review!
Leave a Comment